المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كريب عن ابن عباس باب: کریب کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ قَوْمَةً فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ آوَى إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ، فَصَلَّى فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَفِتَني فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى إِمَّا إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَإِمَّا ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ يَسَارِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ تَحْتِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ ﷺ نے مجھے موڑ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر گیارہ یا تیرہ رکعت نماز پڑھی، پھر لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے۔ میں نے آپ ﷺ کو سجدے میں یہ فرماتے سنا: ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر دے، میرے کان میں نور پیدا کر دے، میری آنکھ میں نور پیدا کر دے، میرے پیچھے نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میری دائیں جانب نور کر دے، میری بائیں جانب نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے نیچے نور کر دے، اور میرے لیے نور کو عظیم بنا دے۔“ پھر آپ ﷺ لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور نماز کے لیے اطلاع دی تو آپ ﷺ باہر تشریف لے گئے۔