المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فَغَنِمُوا وَفِيهِمْ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنِّي لَسْتُ مِنْهُمْ عَشِقْتُ امْرَأَةً فَلَحِقْتُها فَدَعُونِي أَنْظُرْ إِلَيْهَا، ثُمَّ اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَإِذَا امْرَأَةٌ طَوِيلَةٌ أدماءُ فَقَالَ لَهَا: اسْلَمِي حُبَيْشُ قَبْلَ نفادِ الْعَيْشِ أَرَأَيْتِ لَوْ تَبِعْتُكُمْ فَلَحِقْتُكُمْ بِحِلْيَةٍ أَوْ أَدْرَكْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ أَمَا كَانَ حَقٌّ أَنْ يَنولَ عاشِقٌ تَكَلَّفَ إِدْلاجَ السُّرَى وَالْوَدَائِقَ قَالَتْ: نَعَمْ، فَدَيْتُكَ قَالَ: فَقَدَّمُوهُ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ فَشَهِقَتْ شَهْقَةً، أَوْ شَهْقَتَيْنِ، ثُمَّ مَاتَتْ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَحِيمٌ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر بھیجا، انہوں نے مالِ غنیمت حاصل کیا اور ان (قیدیوں) میں ایک آدمی بھی تھا، اس نے صحابہ سے کہا: میں ان (دشمنوں) میں سے نہیں ہوں، مجھے ایک عورت سے محبت ہو گئی تھی سو میں اس کے پیچھے چلا آیا تھا، مجھے اجازت دو کہ میں اسے دیکھ لوں، پھر جو تمہیں مناسب لگے وہ کرو۔ وہاں ایک لمبے قد کی گندمی رنگت والی عورت تھی، تو اس نے اس سے کہا: اے حبیش! زندگی ختم ہونے سے پہلے سلامت رہو (میرا سلام لو)، بھلا بتاؤ اگر میں تمہارا پیچھا کرتا اور حلیہ میں تم تک پہنچتا، یا خوانق میں تمہیں پا لیتا، تو کیا یہ حق نہ تھا کہ ایک عاشق کو، جس نے رات کے سفر اور دوپہر کی گرمی کی مشقت برداشت کی ہو، اس کی خواہش مل جاتی؟ اس نے کہا: ہاں، تم پر قربان جاؤں۔ چنانچہ وہ اسے آگے لے گئے اور اس کی گردن اڑا دی، تو وہ عورت آئی اور اس پر گر پڑی، اور ایک یا دو سسکیاں لیں، پھر وہ فوت ہو گئی۔ جب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو انہیں یہ خبر بتائی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں کوئی رحم دل آدمی نہ تھا؟“