حدیث نمبر: 11984
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْقُرْآنُ يَنْفَلِتُ مِنْ صَدْرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللهُ بِهِنَّ وَيَنْفَعُ مَنْ عَلَّمْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ: " صَلِّ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَيس، وَفِي الثَّانِيَةِ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحم الدُّخَانِ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَالْم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، وَفِي الرَّابِعَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَتَبَارَكَ الْمُفَصَّلِ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ التَّشَهُّدِ فَاحْمَدِ اللهَ واثْنِ عَلَيْهِ، وَصَلِّ عَلَى النَّبِيِّينَ وَاسْتَغْفَرْ لِلْمُؤْمِنِينَ ثُمَّ قُلْ: اللهُمَّ ارْحَمْنِي بِتَرْكِ الْمَعَاصِي أَبَدًا مَا أَبْقَيْتَنِي وَارْحَمْنِي مِنْ أَنْ أَتَكَلَّفَ مَا يَعْنِينِي، وَارْزُقْنِي حُسْنَ النَّظَرِ فِيمَا يُرْضِيكَ عَنِّي، اللهُمَّ بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْأكرامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ، أَسْأَلُكَ يَا اللهُ يَا رَحْمَنُ بِجَلَالِكِ وَنُوِرِ وَجْهِكِ أَنْ تلتزمَ قَلْبِي حُبَّ كِتَابِكَ كَمَا عَلَّمْتَنِي، وَارْزُقْنِي أَنْ أَتْلُوَهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي يُرْضِيكَ عَنِّي، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تُنَوِّرَ بِالْكِتَابِ بَصَرِي، وتُطْلِقَ بِهِ لِسَانِي، وتُفَرِّجَ بِهِ عَنْ قَلْبِي، وتَشْرَحَ بِهِ صَدْرِي، وتَسْتَعْمِلَ بِهِ بَدَنِي، وتُقَوِّيني عَلَى ذَلِكَ، وَتُعِينَنِي عَلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا يُعِينُنِي عَلَى الْخَيْرِ غَيْرُكَ، وَلَا يُوَفِّقُ لَهُ إِلَّا أَنْتَ، فَافْعَلْ ذَلِكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا تَحْفَظُهُ بِإِذْنِ اللهِ وَمَا أَخْطَأَ مُؤْمِنًا قَطُّ " فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِسَبْعِ جُمَعٍ فَأَخْبَرَهُ بِحِفْظِهِ الْقُرْآنَ وَالْحَدِيثَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُؤْمِنٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ عَلِّمْ أَبَا حَسَنٍ عَلِّمْ أَبَا حَسَنٍ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قرآن میرے سینے سے نکل جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں کچھ کلمات سکھاؤں جن سے اللہ تمہیں اور جسے تم سکھاؤ اسے فائدہ پہنچائے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کی رات چار رکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور یٰسین پڑھو، دوسری میں سورۃ فاتحہ اور حٰم الدخان، تیسری میں سورۃ فاتحہ اور الم تنزیل السجدہ، اور چوتھی میں سورۃ فاتحہ اور مفصل کی تبارک (سورۃ الملک) پڑھو۔ جب تشہد سے فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی حمد و ثنا کرو، انبیاء پر درود بھیجو، اور مومنوں کے لیے استغفار کرو، پھر یہ دعا پڑھو: 'اے اللہ! مجھ پر رحم فرما کہ میں ہمیشہ گناہوں کو ترک کیے رہوں جب تک تو مجھے زندہ رکھے، اور مجھ پر رحم فرما کہ میں اس چیز میں تکلف نہ کروں جو مجھ سے تعلق نہیں رکھتی، اور مجھے اس چیز میں اچھی بصیرت عطا فرما جس سے تو مجھ سے راضی ہو جائے۔ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے موجد، اے جلال و اکرام والے، اے وہ ہستی جس کی عزت پر کوئی زور نہیں چلتا، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ، اے رحمن! تیرے جلال اور تیرے چہرے کے نور کے واسطے سے، کہ تو میرے دل میں اپنی کتاب کی محبت پیوست کر دے جیسا کہ تو نے مجھے سکھایا ہے، اور مجھے یہ توفیق دے کہ میں اسے اس طریقے سے پڑھوں جس سے تو مجھ سے راضی ہو جائے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو کتاب کے ذریعے میری آنکھوں کو روشن کر دے، اور اس کے ذریعے میری زبان کو کھول دے، اور اس کے ذریعے میرے دل کو کشادہ کر دے، اور اس کے ذریعے میرا سینہ کھول دے، اور اس کے ذریعے میرے جسم کو مصروف رکھ، اور مجھے اس پر قوت دے، اور اس میں میری مدد فرما، کیونکہ خیر پر تیرے سوا کوئی میری مدد نہیں کرتا، اور تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دیتا۔' یہ تین جمعے، یا پانچ، یا سات دفعہ کرو، اللہ کے حکم سے تم اسے یاد کر لو گے، اور یہ کسی مومن کے حق میں کبھی ناکام نہیں ہوئی۔“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سات جمعوں کے بعد نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہیں قرآن اور حدیث یاد ہو جانے کی خبر دی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کعبہ کے رب کی قسم، یہ مومن ہے! ابوالحسن کو سکھاؤ، ابوالحسن کو سکھاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11984
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 367، حدیث 12036