المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
براء بن عازب الأنصاري رضي الله عنه باب: سیدنا براء بن عازب انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَكِيٍّ ذَمَّةٍ، قَالَ سُلَيْمَانُ: وَالذَّمَّةُ: الْقَلِيلَةُ الْمَاءِ، قَالَ: فَنَزَلَ مِنَّا سِتَّةٌ أَنَا سَادِسُهُمْ، أَوْ سَبْعَةٌ، أَنَا سَابِعُهُمْ مَاحَةً، قَالَ سُلَيْمَانُ: الْمَاحَةُ: الَّذِينَ يَقْدَحُونَ الْمَاءَ، قَالَ: فأَدْلَيْنا دَلْوًا، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيَّةِ، فَجَعَلْنَا فِيهَا نِصْفَهَا، أَوْ قَالَ: قِرَابَ ثُلُثَيْهَا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَرَفَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَرَاءُ: فكَدِدْتُِ إِنائِي، هَلْ أَجِدُ شَيْئًا أَجْعَلُهُ فِي حَلْقِي فَمَا وَجَدْتُ قَالَ: " فَرَفَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَقَالَ: مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ "، فأُعِيدَتْ إِلَيْهَا الدَّلْوُ، وَمَا فِيهَا مِنَ الْمَاءِ قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَنَا أُخْرِجَ بِثَوْبٍ رَهْبَةَ الْغَرَقِ، ثُمَّ سَاحَتْ - أَوْ قَالَ: سَاخَتْ وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ الْمُقْرِيسیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو ہم ایک کم پانی والے کنویں پر آئے، (راوی سلیمان کہتے ہیں: ذَمّہ کا مطلب ہے کم پانی والا) تو ہم میں سے چھ آدمی اترے، میں چھٹا تھا، یا سات، میں ساتواں تھا، پانی نکالنے کے لیے (راوی سلیمان کہتے ہیں: ماحہ وہ ہیں جو پانی نکالتے ہیں)، تو ہم نے ڈول لٹکایا، اور رسول اللہ ﷺ کنویں کے کنارے پر تشریف فرما تھے، تو ہم نے اس میں اس کا آدھا، یا کہا: دو تہائی کے قریب پانی بھرا، پھر میں نے اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف اٹھایا، براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنا برتن ٹٹولا کہ کیا کوئی چیز ملتی ہے جو اپنے حلق میں ڈال لوں، تو کچھ نہ ملا، پھر ”میں نے اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف اٹھایا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈبویا اور اللہ نے جو چاہا کہا“ پھر ڈول کو اس (کنویں) میں واپس ڈال دیا گیا، اس میں جو پانی تھا اس سمیت، براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کسی کو ڈوبنے کے خوف سے کپڑے کے سہارے نکالا جاتا رہا، پھر وہ (کنواں پانی سے) بہہ نکلا - یا کہا: دھنس گیا - اور یہ الفاظ مُقری کی روایت کے ہیں۔