المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَبَايَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَامَ فَفَحَّجَ، ثُمَّ بَالَ فَهَمَّ النَّاسُ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْطَعُوا عَلَى الرَّجُلِ بَوْلَهُ» ثُمَّ قَالَ: «أَلَسْتَ بِمُسْلِمٍ؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ بُلْتَ فِي مَسْجِدِنَا؟» قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا ظَنَنْتُهُ إِلَّا صَعِيدًا مِنَ الصُّعُدَاتِ، فَبُلْتُ فِيهِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنُوبٍ منْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا اور اس نے مسجد میں آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی، پھر واپس مڑا، کھڑا ہو کر پاؤں پھیلائے اور پیشاب کرنے لگا، لوگ اس پر جھپٹنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا پیشاب مت روکو۔“ پھر فرمایا: ”کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تمہیں ہماری مسجد میں پیشاب کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں نے تو اسے کھلے میدانوں میں سے ایک میدان ہی سمجھا اور اسی میں پیشاب کر دیا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے پانی کا ایک ڈول لانے کا حکم دیا اور اسے اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔