حدیث نمبر: 11503
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَبَايَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَامَ فَفَحَّجَ، ثُمَّ بَالَ فَهَمَّ النَّاسُ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْطَعُوا عَلَى الرَّجُلِ بَوْلَهُ» ثُمَّ قَالَ: «أَلَسْتَ بِمُسْلِمٍ؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ بُلْتَ فِي مَسْجِدِنَا؟» قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا ظَنَنْتُهُ إِلَّا صَعِيدًا مِنَ الصُّعُدَاتِ، فَبُلْتُ فِيهِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنُوبٍ منْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا اور اس نے مسجد میں آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی، پھر واپس مڑا، کھڑا ہو کر پاؤں پھیلائے اور پیشاب کرنے لگا، لوگ اس پر جھپٹنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا پیشاب مت روکو۔“ پھر فرمایا: ”کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تمہیں ہماری مسجد میں پیشاب کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں نے تو اسے کھلے میدانوں میں سے ایک میدان ہی سمجھا اور اسی میں پیشاب کر دیا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے پانی کا ایک ڈول لانے کا حکم دیا اور اسے اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11503
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 220، حدیث 11552