حدیث نمبر: 11502
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَعَلَّقَ ثَوْبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِشَجَرَةٍ، وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ يَسْأَلُونَهُ مِنَ الْغَنَائِمِ، فَحَسِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ أَمْسَكُوا بِرِدَائِهِ وَقَالَ: «أَرْسِلُوا رِدَائِي تُرِيدُونَ أَنْ تُبَخِّلُونِي، وَاللهِ لَوْ أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ مِثْلَ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا، وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا» فَقَالُوا: إِنَّمَا تَعَلَّقَتْ بِثِيَابِهِ سَمُرَةٌ فَخَلَّصُوهُ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: لوگ آپ ﷺ کے گرد جمع ہو کر غنیمت کا سوال کر رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے سمجھا کہ انہوں نے آپ کی چادر تھام لی ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری چادر چھوڑ دو، کیا تم مجھے بخیل سمجھتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر اللہ تہامہ کے درختوں جتنے مویشی تمہیں عطا فرما دے تو میں وہ سب تم میں تقسیم کر دوں، پھر تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے، نہ بزدل اور نہ جھوٹا۔“ لوگوں نے عرض کیا: دراصل ایک خاردار جھاڑی آپ ﷺ کے کپڑوں میں الجھ گئی تھی، سو انہوں نے اسے چھڑایا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11502
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 220، حدیث 11551