❮
❯
حدیث نمبر: 11498
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عمرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا عِنْدِي قَضَاءٌ أَقْضِيكَ الْيَوْمَ، قَالَ: فَوَاللهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَ أَوْ تَأْتِيَ بِحَمِيلٍ يَحْمِلُ عَنْكَ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا عِنْدِي قَضَاءٌ وَمَا أَجِدُ أَحَدًا يَحْمِلُهُ عَنِّي، قَالَ: فَجَرَّهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا لَزَمَني واستنظرتُهُ شَهْرًا وَاحِدًا فَأَبَى حَتَّى أَقْضِيَهُ أَوْ آتِيَهُ بِحَمِيلٍ، فَقُلْتُ وَاللهِ مَا أَجِدُ حَمِيلًا، وَمَا عِنْدِي قَضَاءٌ الْيَوْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَسْتَنْظِرُهُ إِلَّا شَهْرًا وَاحِدًا؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «فَأَنَا أَحْمِلُهَا عَنْكَ» فَتَحَمَّلَها رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ، فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعْدَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ؟» قَالَ: مَنْ مَعْدِنٍ قَالَ: «فَاذْهَبْ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا، وَلَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ» ، فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے مقروض کے پیچھے دس دیناروں کے لیے لگا رہا۔ اس (مقروض) نے کہا: اللہ کی قسم! آج میرے پاس ادائیگی کے لیے کچھ نہیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہیں چھوڑوں گا جب تک تو ادا نہ کرے یا کوئی ضامن نہ لائے جو تیری طرف سے ذمہ لے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہ میرے پاس ادائیگی ہے اور نہ مجھے کوئی ایسا شخص ملتا ہے جو میری طرف سے ضامن بنے۔ چنانچہ وہ اسے کھینچ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا۔ (مقروض نے) عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرے پیچھے پڑ گیا ہے، میں نے اس سے ایک مہینے کی مہلت مانگی تو اس نے انکار کر دیا جب تک میں اسے ادا نہ کروں یا اس کے لیے کوئی ضامن نہ لاؤں، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہ مجھے کوئی ضامن مل رہا ہے اور نہ آج میرے پاس ادائیگی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس سے صرف ایک مہینے کی مہلت مانگتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں تمہاری طرف سے اسے ادا کر دوں گا۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا ذمہ لے لیا، وہ آدمی گیا اور آپ ﷺ کے وعدے کے مطابق سونا لے آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”یہ سونا تمہیں کہاں سے ملا؟“ اس نے کہا: ایک کان سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہ لے جاؤ، ہمیں اس کی حاجت نہیں، اس میں کوئی خیر نہیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے وہ قرض ادا کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11498
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 218، حدیث 11547