المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ غُسْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ أَوَاجِبٌ هُوَ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَغْتَسِلَ، وَمَنْ لَمْ يَغْتَسِلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ، وَسَوْفَ أُخْبِرُكُمْ كَيْفَ هَذَا؟ كَانَ النَّاسُ مَجْهُودِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَيَعْمَلُونَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ مَسْجِدُهُمْ ضَيِّقًا، وَكَانَ السَّقْفُ إِنَّمَا هُوَ عَرِيشٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَارًّا وَقَدْ عُرِقَ فِي ذَلِكَ الصُّوفِ حَتَّى ثَارَتْ رِيَاحٌ، وَحَتَّى أَذًى بِذَلِكَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الرِّيَاحَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ، فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَمْثَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا جمعہ کے دن کا غسل واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، البتہ مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں غسل کروں، اور جو غسل نہ کرے اس پر واجب نہیں۔ اور اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ کیسے ہوا: لوگ تنگ دست تھے، اون پہنتے تھے اور اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھا کر کام کرتے تھے، اور ان کی مسجد تنگ تھی، اور اس کی چھت محض جھونپڑی نما (تنکوں کی بنی ہوئی) تھی۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ گرمی کے دن باہر تشریف لائے، اور اس اون میں پسینہ آ چکا تھا حتیٰ کہ بدبو پھیل گئی، یہاں تک کہ اس سے وہ ایک دوسرے کو ایذا دینے لگے، تو نبی کریم ﷺ نے وہ بدبو محسوس کی، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! جب یہ دن ہو تو غسل کرو، اور تم میں سے ہر ایک جو بہترین تیل اور خوشبو پائے وہ لگائے۔“