المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء، عن ابن عباس باب: عطاء کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11378
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوا، وَلَا تُزَلْزِلُوا، وَارْفُقُوا، فَإِنَّهُ «كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعٌ، فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ» قَالَ عَطَاءٌ: فَكَانَتِ الَّتِي لَمْ يَقْسِمْ لَهَا صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّترجمہ
عطاء بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا: جب تم ان کا تابوت اٹھاؤ تو اسے ہلاؤ مت اور نہ جھٹکا دو، بلکہ نرمی سے اٹھاؤ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں نو ازواج تھیں، آپ ﷺ آٹھ کے درمیان باری کی تقسیم فرماتے تھے اور ایک کے لیے تقسیم نہیں فرماتے تھے۔ عطاء کہتے ہیں: جس کے لیے تقسیم نہیں فرماتے تھے وہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا تھیں۔