المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء، عن ابن عباس باب: عطاء کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدٌ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ: فَلَنْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَآكُلُ مِنْ طَرَفِ الطَّرِيفَةِ قُلْتُ: مَا الطَّرِيفَةُ؟ قَالَ: خُبْزُ الرِّقَاقِ أَوْ أَشْرَبُ اللَّبَنَ أَوِ النَّبِيذَ أَوِ الْمَاءَ، فَقُلْتُ: عَلَامَ تُؤَوِّلُ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُ أَظُنُّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضُّحَى فَيَقُولُونَ: نَطْعَمُ لِئَلَّا يُعَجَّلَ عَنِ الصَّلَاةِ " قَالَ: «وَرُبَّمَا غَدَوْتُ وَلَمْ أَذُقْ إِلَّا الْمَاءَ» ، ابْنُ عَبَّاسٍ الْقَائِلُابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے عطاء رحمہ اللہ نے بتایا، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا: اگر تم سے ہو سکے کہ عیدالفطر کے دن کوئی شخص کچھ کھائے بغیر نہ نکلے تو ایسا ہی کرے۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب سے میں نے یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی ہے، میں نکلنے سے پہلے کچھ کھائے بغیر نہیں نکلتا، تو میں طریفہ کا ایک کنارہ کھا لیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: طریفہ کیا ہے؟ فرمایا: پتلی روٹی، یا دودھ پی لیتا ہوں، یا نبیذ، یا پانی۔ میں نے عرض کیا: آپ اس کی کیا توجیہ کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے سنا ہے - میرا خیال ہے نبی کریم ﷺ سے - کہ فرمایا: ”وہ اس وقت تک نہیں نکلتے تھے جب تک چاشت کا وقت نہ بڑھ جاتا، اور کہتے تھے: ہم کچھ کھا لیتے ہیں تاکہ نماز میں جلدی نہ کرنی پڑے۔“ فرمایا: ”اور کبھی میں خود صبح نکل جاتا اور پانی کے سوا کچھ نہ چکھتا۔“ (یہ آخری جملہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے۔