حدیث نمبر: 11317
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً لَمْ يَأْتِهِ فِيهَا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا عَمُّكَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ: «ائْذَنُوا لَهُ فَقَدْ جَاءَ لِأَمْرٍ» فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ: «فَمَا جَاءَ بِكَ يَا عَمَّاهُ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَلَيْسَتْ سَاعَتَكَ الَّتِي كُنْتَ تَجِيءُ فِيهَا؟» قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي ذَكَرْتُ الْجَاهِلِيَّةَ وَجَهْلَهَا فَضَاقَتْ عَلَيَّ الدُّنْيَا بِمَا رَحُبَتْ، فَقُلْتُ مَنْ يُفَرِّجُ عَنِّي؟ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَا يُفَرِّجُ عَنِّي أَحَدٌ إِلَّا اللهُ ثُمَّ أَنْتَ، فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْقَعَ هَذَا فِي قَلْبِكَ، وَوَدِدْتُ أَنَّ أَبَا طَالِبٍ أَخَذَ نَصِيبَهُ، وَلَكِنَّ اللهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» ، قَالَ: «أَحْبُوكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أُعْطِيكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَحْبُوكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَإِذَا كَانَتْ سَاعَةٌ يُصَلَّى فِيهَا لَيْسَتْ بَعْدَ الْعَصْرِ وَلَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَمَا بَيْنَ ذَلِكَ فَأَسْبِغْ طَهُورَكَ، ثُمَّ قُمْ إِلَى اللهِ فَاقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهَا منْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ، فَإِذَا فَرَغْتَ منَ السُّورَةِ فَقُلْ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرةَ مَرَّةً، فَإِذَا رَكَعْتَ فَقُلْ ذَلِكَ عَشْرًا، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ فَقُلْ ذَلِكَ عَشَرَ مِرَارٍ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایسے وقت آئے جس وقت وہ عام طور پر نہیں آتے تھے، تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کے چچا دروازے پر ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو، وہ کسی اہم بات کے لیے آئے ہیں۔“ جب وہ اندر آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے چچا! اس وقت آپ کو کیا لایا، حالانکہ یہ آپ کا معمول کا وقت نہیں؟“ انہوں نے کہا: بھتیجے! مجھے جاہلیت اور اس کی جہالت یاد آ گئی تو دنیا اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہو گئی، میں نے سوچا کہ کون میری یہ تنگی دور کرے گا؟ تو مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ کے سوا اور پھر آپ کے سوا کوئی میری یہ تنگی دور نہیں کر سکتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے یہ بات آپ کے دل میں ڈالی، اور میری خواہش ہے کہ ابوطالب نے بھی اپنا حصہ پا لیا ہوتا، لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”کیا میں آپ کو دوں؟“ کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟“ کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی ایسی گھڑی ہو جس میں نماز پڑھی جا سکتی ہو - نہ وہ عصر کے بعد کی ہو اور نہ سورج نکلنے کے بعد کی، بلکہ ان دونوں کے درمیان کی ہو - تو اچھی طرح وضو کرو، پھر اللہ کے حضور کھڑے ہو کر سورۃ الفاتحہ اور کوئی سورت پڑھو، چاہو تو مفصل کی ابتدائی سورتوں میں سے کوئی رکھ لو، جب سورت سے فارغ ہو جاؤ تو پندرہ بار کہو: سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر، پھر جب رکوع کرو تو دس بار یہی کہو، اور جب سر اٹھاؤ تو دس بار یہی کہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11317
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 161، حدیث 11365