حدیث نمبر: 11316
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا اسْتَوَى النَّهَارُ خَرَجَ إِلَى بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ وَقَدْ يُسِّرَ لَهُ فِيهَا طَهُورٌ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ قَضَاهَا، وَإِلَّا تَطَهَّرَ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ قَدْرَ شِرَاكٍ، قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَلَمْ يَتَشَهَّدْ بَيْنَهُنَّ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ الْأَرْبَعِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَأْتِي الْمَسْجِدَ» ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تُصَلِّيهَا، وَلَا نُصَلِّيهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «منْ صَلَّاهُنَّ مِنْ أُمَّتِي فَقَدْ أَحْيَى لَيْلَتَهُ سَاعَةً يُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ ويُستجابُ فِيهَا الدُّعَاءُ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب دن چڑھ آتا تو مدینہ کے کسی باغ کی طرف نکل جاتے، وہاں آپ ﷺ کے لیے وضو کا پانی مہیا کر دیا جاتا، اگر آپ ﷺ کو کوئی حاجت ہوتی تو اسے پورا فرماتے، ورنہ وضو کرتے، پھر جب سورج آسمان کی چوٹی سے ایک تسمے کے برابر ڈھل جاتا تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے درمیان تشہد نہ کرتے اور چاروں کے آخر میں سلام پھیرتے، پھر مسجد کی طرف تشریف لے جاتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کون سی نماز ہے جو آپ پڑھتے ہیں اور ہم نہیں پڑھتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے جو یہ چار رکعتیں پڑھے، اس نے اپنی رات کی ایک گھڑی زندہ کر لی، جس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11316
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 161، حدیث 11364