المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مجاهد، عن ابن عباس باب: مجاہد کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11109
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ١٧٨] قَالَ: " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا قُتِلَ مِنْهُمُ الْقَتِيلُ عَمْدًا لَمْ يَحِلَّ لَهُمْ إِلَّا الْقَوَدُ، وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الدِّيَةُ فَأُمِرَ هَذَا أَنْ يَتْبَعَ بِمَعْرُوفٍ، وَأُمِرَ هَذَا أَنْ يُؤَدِّي بِإِحْسَانٍ {ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: ١٧٨] "ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ”تو نیکی سے پیروی کرنا اور بھلائی کے ساتھ ادا کرنا لازم ہے“ [البقرہ: 178] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”بنی اسرائیل میں جب کسی کا جان بوجھ کر قتل ہوتا تو ان کے لیے صرف قصاص ہی جائز تھا، اور تمہارے لیے دیت کی رعایت حلال کی گئی، تو مقتول کے وارث کو حکم دیا گیا کہ وہ اچھے طریقے سے پیروی کرے، اور قاتل کو حکم دیا گیا کہ وہ بھلائی سے ادا کرے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف ہے [البقرہ: 178]۔“