المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن هرمز عن ابن عباس باب: یزید بن ہرمز کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْلَا أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا لَمَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ: أَمَّا بَعْدُ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ؟ وَمَتَى يَنْقَطِعُ يُتِمُ الْيَتِيمِ؟ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا سَهْمٌ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلِ الصِّبْيَانَ، وَكَتَبْتَ: مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ يَشِبُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ، ضَعِيفُ الْإِعْطَاءِ مِنْهَا، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ أَصْلَحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ، فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمُسِ، لِمَنْ هُوَ؟ فَإِنَّا نَقُولُ: هُوَ لَنَا، وَأَبَى عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَلِكَ .نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر پانچ باتیں پوچھیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں کسی علم کو چھپا رہا ہوں تو میں اسے جواب نہ لکھتا۔ نجدہ نے انہیں لکھا: امابعد! مجھے بتائیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جنگ میں ساتھ لے جاتے تھے؟ اور کیا آپ ﷺ ان کے لیے مالِ غنیمت میں سے حصہ مقرر کرتے تھے؟ اور کیا آپ ﷺ بچوں کو قتل کرتے تھے؟ اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اور خمس کس کے لیے ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں لکھا: تم نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جنگ میں ساتھ لے جاتے تھے؟ تو ہاں، آپ ﷺ انہیں ساتھ لے جاتے، وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور انہیں مالِ غنیمت میں سے کچھ دیا جاتا، لیکن حصہ باقاعدہ مقرر نہیں کیا جاتا تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ اور تم نے پوچھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو میری جان کی قسم! آدمی کی داڑھی بڑھ جاتی ہے اور پھر بھی وہ اپنے لیے مال لینے میں کمزور اور اسے دینے میں بھی کمزور ہو سکتا ہے، تو جب وہ اپنے لیے مال اس طرح لینے لگے جیسے سمجھدار لوگ لیتے ہیں تو اس کی یتیمی ختم ہو جاتی ہے۔ اور تم نے مجھ سے خمس کے بارے میں پوچھا کہ وہ کس کے لیے ہے؟ تو ہم کہتے ہیں: وہ ہمارے لیے ہے، لیکن ہماری قوم نے ہمیں اس سے روک دیا۔