المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن هرمز عن ابن عباس باب: یزید بن ہرمز کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ يَتِيمٍ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ، وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، وَعَنِ الْمَمْلُوكِ أَلَهُ مِنَ الْفَيْءِ شَيْءٌ؟ وَعَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْلَا أَنْ يَأْتِيَ أُحْمُوقَةً مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ كَتَبَ إِلَيْهِ: أَمَّا الْيَتِيمُ فَإِذَا احْتَلَمَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ فَقَدِ انْقَطَعَ عَنْهُ الْيُتْمُ، وَأَمَّا الْوِلْدَانُ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيهِمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ وَإِلَّا فَلَا تَقْتُلْهُمْ، وَأَمَّا الْمَمْلُوكُ فَقَدْ كَانَ يُحْذَى لَهُ، وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كُنَّ يُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيَسْقِينَ الْمَاءَ، وَأَمَّا الْخُمُسُ فَنَزْعُمُ أَنَّهُ لَنَا، وَيَزْعُمُ قَوْمُنَا أَنَّهُ لَيْسَ لَنَانجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر یتیم کے بارے میں پوچھا کہ اس سے یتیمی کب ختم ہوتی ہے، اور بچوں کو قتل کرنے کے بارے میں، اور غلام کے لیے مالِ فے میں سے کچھ حصہ ہے یا نہیں، اور خمس کس کے لیے ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ وہ کوئی بڑی حماقت کر بیٹھے گا تو میں اسے جواب نہ لکھتا۔ پھر انہیں لکھا: رہا یتیم، تو جب وہ بالغ ہو جائے اور اس میں سمجھ بوجھ نظر آئے تو اس کی یتیمی ختم ہو جاتی ہے۔ اور رہے بچے، تو اگر تمہیں ان کے بارے میں وہی علم ہو جو خضر علیہ السلام کو تھا تو ٹھیک، ورنہ انہیں قتل نہ کرو۔ اور رہا غلام، تو اسے غنیمت میں سے کچھ دیا جاتا تھا۔ اور رہیں عورتیں، تو وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور پانی پلاتی تھیں۔ اور رہا خمس، تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے ہے، لیکن ہماری قوم سمجھتی ہے کہ وہ ہمارے لیے نہیں۔