المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن هرمز عن ابن عباس باب: یزید بن ہرمز کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَتَاهُ كِتَابُ نَجْدَةَ، كَتَبَ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ عَنْ ذِي الْقُرْبَى الَّذِينَ ذَكَرَ اللهُ فِي الْقُرْآنِ، وَعَنْ قَتْلِ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، وَهَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُهُمْ؟ وَعَنِ انْقِضَاءِ يُتْمِ الْيَتِيمِ، وَعَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَشْهَدَانِ الْبَأْسَ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ شَرٍّ أَخَافُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، فَكَتَبَ فِي ذَوِي الْقُرْبَى: إِنَّا كُنَّا نَرَى قَرَابَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ، فَأَبَى عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَلِكَ، وَأَمَّا الْيَتِيمُ فَإِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ، وَأُونِسَ مِنْهُمْ رَشَدٌ، دُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ، فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ، وَأَمَّا الصِّبْيَانُ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ أَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِثْلَ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنِ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ، وَفِي الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ هَلْ لَهُمَا سَهْمٌ إِذَا شَهِدَا الْبَأْسَ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ، إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِیزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا، اور ان کے پاس نجدہ کا خط آیا تھا، اس نے انہیں لکھا اور ان سے قرآن میں مذکور ذوی القربیٰ کے بارے میں، اور مشرکین کے بچوں کو قتل کرنے کے بارے میں پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ انہیں قتل کرتے تھے؟ اور یتیم کی یتیمی ختم ہونے کے بارے میں، اور غلام اور عورت کے جنگ میں شریک ہونے کے بارے میں پوچھا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں اسے کسی برائی سے، جس میں پڑنے کا مجھے خدشہ ہے، روکنا نہ چاہتا تو میں اسے جواب نہ لکھتا۔ پھر انہوں نے ذوی القربیٰ کے بارے میں لکھا: ہم یہ سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار ہم ہیں، لیکن ہماری قوم نے ہمیں اس سے روک دیا۔ اور رہا یتیم، تو جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس میں سمجھ بوجھ نظر آنے لگے تو اس کا مال اسے دے دیا جائے، اس کی یتیمی ختم ہو جاتی ہے۔ اور رہے بچے، تو رسول اللہ ﷺ مشرکین کے بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے، اور تم بھی انہیں قتل نہ کرو، الا یہ کہ تمہیں وہی علم ہو جو خضر علیہ السلام کو اس لڑکے کے بارے میں تھا جب انہوں نے اسے قتل کیا تھا۔ اور رہا غلام اور عورت کے لیے جنگ میں شریک ہونے پر حصہ، تو انہوں نے لکھا کہ ان دونوں کے لیے کوئی مقررہ حصہ نہیں، سوائے اس کے کہ انہیں قوم کی غنیمتوں میں سے کچھ دیا جائے۔