المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن مرجانة عن ابن عباس باب: سعید بن مرجانہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ} [البقرة: ٢٨٤] ، فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: " يَغْفِرُ اللهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَعَمْرِي لَقَدْ أَهَمَّتْ هَذِهِ الْآيَةُ الْمُسْلِمِينَ قَبْلَهُ، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ} [البقرة: ٢٨٦] ، قَالَ: الْوَسْوَسَةُ مَا لَا يَمْلِكُهُ النَّاسُ، وَقَضَى اللهُ لِكُلِّ نَفْسٍ فِي الْجَزَاءِ بِمَا كَسَبَتْسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: ”اگر تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جسے چاہے بخش دے گا اور جسے چاہے عذاب دے گا“ [سورۃ البقرہ: 284]، تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: اللہ ابوعبدالرحمن (ابن عمر) کو معاف فرمائے، میری جان کی قسم! اس آیت نے ان سے پہلے مسلمانوں کو بھی پریشان کر دیا تھا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، ہر شخص کے لیے اس کی کمائی ہے اور اسی کے خلاف اس کا کیا ہوا ہے“ [سورۃ البقرہ: 286]۔ فرمایا: وسوسہ وہ ہے جس پر لوگوں کا اختیار نہیں، اور اللہ نے ہر نفس کے لیے بدلہ اس کی کمائی کے مطابق مقرر کیا ہے۔