المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن مرجانة عن ابن عباس باب: سعید بن مرجانہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ هَرَّانَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ قَرَأَ {لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ} [البقرة: ٢٨٤] ، فَنَشَجَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى سَمِعَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَشِيجَهُ فِي مُؤَخِّرِ الْمَسْجِدِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تُوَسْوِسُ بِهِ أَنْفُسُنَا، قَالَ سَعِيدُ ابْنُ مَرْجَانَةَ: فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا حَضَرْتُ مِنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: يَغْفِرُ اللهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ وَجَدَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مِثْلَ مَا وَجَدَ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكُمْ، فَقُولُوا: آمَنَّا بِمَا أَنْزَلَ، فَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ "، فَقَالُوهَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولُوهَا، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ} [البقرة: ٢٨٥] إِلَى قَوْلِهِ {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: ٢٨٦]سعید بن مرجانہ بیان کرتے ہیں: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا جب انہوں نے یہ آیت پڑھی: ”آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے، اور اگر تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا“ [سورۃ البقرہ: 284]، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما سسکنے لگے، یہاں تک کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مسجد کے پچھلے حصے میں ان کی سسکی سن لی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم سے تو ہمارے دلوں کے وسوسوں پر بھی مؤاخذہ ہوگا۔ سعید بن مرجانہ کہتے ہیں: تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ بات پوچھی جو میں نے سنی تھی اور انہیں بتائی، تو انہوں نے فرمایا: اللہ ابوعبدالرحمن کو معاف فرمائے، مسلمانوں نے بھی اس آیت سے وہی پریشانی محسوس کی تھی جو انہوں نے محسوس کی، اور انہوں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے رب نے ایسا ہی فرمایا ہے، تو تم کہو: ہم اس پر ایمان لائے جو نازل ہوا، ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔“ چنانچہ وہ اسے کہتے رہے جب تک اللہ نے چاہا کہ وہ اسے کہیں، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل کیا گیا“ [سورۃ البقرہ: 285] سے لے کر ”اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا“ [سورۃ البقرہ: 286] تک۔