حدیث نمبر: 10721
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «رَجُلٌ يُمْسِكُ بِرَأْسِ فَرَسِهِ» ، أَوْ قَالَ: «فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ يُقْتَلُ» ، قَالَ: «أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «الَّذِي يُسْأَلُ بِاللهِ، وَلَا يُعْطِي بِهِ»
ترجمہ

نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے جبکہ لوگ بیٹھے تھے تو فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مرتبے والا کون ہے؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے رکھے“، یا فرمایا: ”اللہ کے راستے میں گھوڑے کی، یہاں تک کہ شہید کر دیا جائے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس کے بعد والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو کسی گھاٹی میں الگ رہتا ہے، نماز قائم کرتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے، اور لوگوں کی برائیوں سے الگ رہتا ہے۔ کیا میں تمہیں بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے تو وہ نہ دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10721
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 315، حدیث 10767