کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کی فتوحات کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا بَعَثَ إِلَى الشَّامِ بَايَعَهُمْ عَلَى الطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ .
ترجمہ
ابو السفر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب (مجاہدین کے لشکر کو) ملکِ شام کی طرف روانہ فرماتے تو ان سے اس بات پر بیعت لیتے کہ وہ ”دشمن کے نیزوں کی لڑائی اور طاعون کی وبا“ دونوں حالتوں میں (میدانِ کارزار میں) ثابت قدم رہیں گے۔
اس اثر کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں انقطاع ہے کیونکہ ابو السفر کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
اس اثر کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں انقطاع ہے کیونکہ ابو السفر کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَ : إِنَّ دُرْجًا أُتِيَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَنَظَرَهُ أَكْثَرُ أَصْحَابِهِ ، فَلَمْ يَعْرِفُوا قِيمَتَهُ ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُونَ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، لِحُبِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَأُتِيَ بِهِ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَفَتَحَتْهُ ، فَقِيلَ : هَذَا أَرْسَلَ بِهِ إِلَيْكِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : مَاذَا فَتَحَ عَلَيَّ ابْنُ الْخَطَّابِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اللَّهُمَّ لَا تُبْقِنِي لِعَطِيَّةِ قَابِلٍ .
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ذکوان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک قیمتی صندوقچہ لایا گیا، جسے ان کے اکثر ساتھیوں نے دیکھا مگر وہ اس کی صحیح قدر و قیمت معلوم نہ کر سکے۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بے پناہ محبت کی وجہ سے میں یہ صندوقچہ انہی کی خدمت میں بھیج دوں؟“ سب نے اتفاق کرتے ہوئے کہا: ”جی ہاں!“ چنانچہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لایا گیا اور جب انہوں نے اسے کھولا، تو انہیں بتایا گیا کہ یہ تحفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کے لیے ارسال کیا ہے۔ تب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ابنِ خطاب نے رسول اللہ ﷺ کے بعد مجھ پر دنیا کے کیا ہی دروازے کھول دیے ہیں!“ پھر انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں یہ التجا کی: «اللَّهُمَّ لَا تُبْقِنِي لِعَطِيَّةِ قَابِلٍ» ”اے اللہ! تو مجھے آئندہ سال کا عطیہ وصول کرنے تک (دنیا میں) زندہ نہ رکھنا۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں موجود تمام راوی ثقہ اور مستند ہیں۔
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں موجود تمام راوی ثقہ اور مستند ہیں۔