قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، ثَنَا خَالِدٌ - هُوَ الطَّحَّانُ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ - هُوَ عَمْرُو بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ - عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : خَرَجَ جَيْشٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنَا أَمِيرُهُمْ ، حَتَّى نَزَلْنَا الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ ، فَقَالَ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَائِهِمْ : أَخْرِجُوا إِلَيَّ رَجُلًا أُكَلِّمُهُ وَيُكَلِّمُنِي ، فَقُلْتُ : لَا يَخْرُجُ إِلَيْهِ غَيْرِي ، فَخَرَجْتُ مَعِي بِتُرْجُمَانٍ ، وَمَعَهُ تُرْجُمَانُهُ ، حَتَّى وُضِعَ لَنَا مِنْبَرَانِ . فَقَالَ : مَا أَنْتُمْ ؟ قُلْنَا : نَحْنُ الْعَرَبُ مِنْ أَهْلِ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، كُنَّا أَضْيَقَ النَّاسِ أَرْضًا ، وَشَرَّهُ عَيْشًا ، نَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ ، وَيُغِيرُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ ، كُنَّا بِشَرِّ عَيْشٍ عَاشَ بِهِ النَّاسُ ، حَتَّى خَرَجَ فِينَا رَجُلٌ لَيْسَ بِأَعْظَمِنَا يَوْمَئِذٍ شَرَفًا ، وَلَا أَكْثَرِنَا مَالًا ، قَالَ : أَنَا رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ ، يَأْمُرُنَا بِمَا لَا نَعْرِفُ ، وَيَنْهَانَا عَمَّا كُنَّا عَلَيْهِ وَكَانَتْ عَلَيْهِ آبَاؤُنَا ، فَشَنَّعْنَا بِهِ ، وَكَذَّبْنَا ، وَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ ، حَتَّى خَرَجَ إِلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ غَيْرِنَا ، فَقَالُوا : نَحْنُ نُصَدِّقُكَ ، وَنُؤْمِنُ بِكَ ، وَنَتَّبِعُكَ ، وَنُقَاتِلُ مَنْ قَاتَلَكَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ، وَخَرَجْنَا إِلَيْهِ ، وَقَاتَلَنَا وَقَاتَلْنَاهُ ، فَقَتَلَنَا ، وَظَهَرَ عَلَيْنَا وَغَلَبَنَا ، وَتَنَاوَلَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهِمْ ، فَلَوْ يَعْلَمُ مَنْ وَرَائِي مِنَ الْعَرَبِ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا جَاءَكُمْ حَتَّى يَشْرَكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ ، فَضَحِكَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَكُمْ قَدْ صَدَقَ ، وَقَدْ جَاءَتْنَا رُسُلُنَا بِمِثْلِ الَّذِي جَاءَ بِهِ رَسُولُكُمْ ، وَكُنَّا عَلَيْهِ ، حَتَّى ظَهَرَتْ فِينَا مُلُوكٌ ، فَجَعَلُوا يَعْمَلُونَ فِينَا بِأَهْوَائِهِمْ ، وَيَتْرُكُونَ أَمْرَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَخَذْتُمْ بِأَمْرِ نَبِيِّكُمْ لَمْ يُقَاتِلْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبْتُمُوهُ ، وَلَمْ يُشَارِفْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ظَهَرْتُمْ عَلَيْهِ ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْنَا ، فَتَرَكْتُمْ أَمْرَ نَبِيِّكُمْ ، وَعَمِلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي عَمِلُوا بِأَهْوَائِهِمْ ، فَخُلِّيَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ، لَمْ تَكُونُوا أَكْثَرَ عَدَدًا مِنَّا ، وَلَا أَشَدَّ قُوَّةً مِنَّا ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَمَا كَلَّمْتُ رَجُلًا قَطُّ أَمْكَرَ مِنْهُ .
ترجمہ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ ہوا جس کا امیر میں تھا، یہاں تک کہ ہم اسکندریہ جا اترے، وہاں کے بڑوں میں سے ایک بڑے سردار نے کہا: ”میری طرف ایک ایسا آدمی بھیجیں کہ میں اس سے گفتگو کروں اور وہ مجھ سے کلام کرے۔“ میں نے کہا: ”اس کے پاس میرے سوا کوئی نہیں جائے گا۔“ چنانچہ میں اپنے ایک مترجم کے ساتھ نکلا اور اس کے پاس بھی اپنا مترجم موجود تھا، یہاں تک کہ ہمارے لیے دو منبر بچھائے گئے۔ اس نے پوچھا: ”تم لوگ کون ہو؟“ ہم نے جواب دیا: ”ہم عرب ہیں، کانٹے دار جھاڑیوں اور ببول کے پھل والے بنجر علاقے کے رہنے والے ہیں، اور ہم اللہ عزوجل کے گھر (بیت اللہ) والے ہیں۔ ہم زمین کے اعتبار سے تنگ ترین اور زندگی کے لحاظ سے بدترین حال میں تھے، ہم مردار اور خون تک کھا لیتے تھے اور ہمارا ایک گروہ دوسرے پر غارت گری کرتا تھا، ہم انسانوں میں بدترین گزر بسر کر رہے تھے، یہاں تک کہ ہم میں ایک ایسا شخص نمودار ہوا جو اس وقت ہم میں نہ تو خاندانی وجاہت کے اعتبار سے سب سے بڑا تھا اور نہ ہی مال و دولت میں ہم سے زیادہ تھا۔ اس نے کہا: ”میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں“، وہ ہمیں ایسے احکامات دیتا تھا جن سے ہم ناواقف تھے اور ہمیں ان کاموں سے روکتا تھا جن پر ہم اور ہمارے آباؤ اجداد قائم تھے۔ ہم نے اس کی برائی بیان کی، اسے جھٹلایا اور اس کی بات رد کر دی، یہاں تک کہ ہمارے علاوہ دوسری قوم کے لوگ اس کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں، آپ پر ایمان لاتے ہیں، آپ کی پیروی کریں گے اور جو آپ سے لڑے گا ہم اس سے جنگ کریں گے۔“ پس وہ ان کے پاس چلے گئے، پھر ہم ان کے خلاف نکلے اور ہماری ان سے جنگ ہوئی، تو انہوں نے ہمیں قتل کیا، وہ ہم پر چھا گئے اور ہمیں زیر کر لیا۔ پھر انہوں نے اپنے قریبی عربوں کا رخ کیا اور ان سے قتال کیا یہاں تک کہ ان پر بھی غلبہ پا لیا۔ اب اگر میرے پیچھے رہ جانے والے عربوں کو تمہاری اس پرتعیش زندگی کا علم ہو جائے تو کوئی ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو یہاں نہ آ جائے تاکہ تمہاری اس خوشحالی میں تمہارا شریک بن سکے۔“ یہ سن کر وہ سردار ہنسا، پھر کہنے لگا: ”تمہارے رسول نے یقیناً سچ کہا ہے، ہمارے پاس بھی ہمارے رسول ویسی ہی تعلیمات لے کر آئے تھے جیسی تمہارے رسول لائے اور ہم اسی پر کاربند تھے، یہاں تک کہ ہم میں بادشاہ ظاہر ہوئے جنہوں نے اپنی خواہشات کے مطابق ہم پر حکومت کرنا شروع کر دی اور انبیاء کے طریقے کو ترک کر دیا۔ پس جب تک تم اپنے نبی کے لائے ہوئے امر پر قائم رہو گے، جو بھی تم سے لڑے گا تم اسے مغلوب کر دو گے، اور جس کے بھی تم مقابل آؤ گے اس پر فتح یاب ہو گے۔ لیکن جب تم بھی ویسا ہی کرنے لگو گے جیسا ہم نے کیا، یعنی اپنے نبی کے حکم کو پسِ پشت ڈال دو گے اور ان (بادشاہوں) کی طرح اپنی خواہشات کے پیچھے چلو گے، تو پھر معاملہ ہمارے اور تمہارے درمیان برابر کر دیا جائے گا، اور تب تم تعداد میں ہم سے زیادہ ہو گے نہ ہی قوت میں ہم سے بڑھ کر۔“ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے اس شخص سے زیادہ زیرک اور معاملہ فہم آدمی کبھی نہیں دیکھا۔“
مسند ابی یعلیٰ، رقم الحدیث: 4370، اس کی سند حسن ہے۔
مسند ابی یعلیٰ، رقم الحدیث: 4370، اس کی سند حسن ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : لَمَّا صَدَّ أَهْلُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، نَصَبَ عَلَيْهَا الْمَنْجَنِيقَ .
ترجمہ
موسیٰ بن علی بن رباح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”جب اہل اسکندریہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی پیش قدمی کو روکا اور ان کی مخالفت کی، تو انہوں نے اس شہر کے خلاف منجنیق نصب کر دی۔“
اس روایت کی تخریج امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں کی ہے۔
اس روایت کی تخریج امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں کی ہے۔