کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: فتنوں کے زمانے میں عبادت کے لیے گوشہ نشینی کے جواز کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا رَوَّادٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُكُمْ فِي رَأْسِ الْمِائَتَيْنِ الْخَفِيفُ الْحَاذِ . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا خِفَّةُ الْحَاذِ ؟ قَالَ : مَنْ لَا أَهْلَ لَهُ وَلَا مَالَ .
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دو سو ہجری کے آغاز پر تم میں سب سے بہترین شخص «الْخَفِيفُ الْحَاذِ» (ہلکے بوجھ والا) ہو گا۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! «خِفَّةُ الْحَاذِ» (ہلکے بوجھ والے ہونے) سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جس کے پاس نہ تو اہل و عیال ہوں اور نہ ہی مال و دولت (کا بوجھ) ہو۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں رواد بن جراح نامی راوی موجود ہے جو کہ ضعیف الحفظ ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں رواد بن جراح نامی راوی موجود ہے جو کہ ضعیف الحفظ ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ صَدَقَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَحِلُّ فِيهَا الْعُزْبَةُ ، وَلَا يَسْلَمُ لِذِي دِينٍ دِينُهُ إِلَّا مَنْ فَرَّ بِدِينِهِ مِنْ شَاهِقٍ إِلَى شَاهِقٍ ، وَمِنْ جُحْرٍ إِلَى جُحْرٍ ، كَالطَّائِرِ يَفِرُّ بِفِرَاخِهِ ، وَكَالثَّعْلَبِ بِأَشْبَالِهِ ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ ، وَاعْتَزَلَ النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ ، وَلَمِائَةُ شَاةٍ عَفْرَاءَ أَرْعَاهَا بِسَلْعٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُلْكِ بَنِي النَّضِيرِ ، وَذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَا وَكَذَا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں پر عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں مجرد رہنا (شادی نہ کرنا) روا ہوگا، اور کسی صاحبِ دین کا دین اس وقت تک سلامت نہیں رہے گا جب تک وہ اپنے دین کی حفاظت کی خاطر ایک پہاڑ کی چوٹی سے دوسری چوٹی اور ایک بل سے دوسرے بل کی طرف اس طرح نہ بھاگے جیسے کوئی پرندہ اپنے بچوں کو لے کر اڑتا ہے اور جیسے کوئی لومڑی اپنے بچوں کو لے کر بھاگتی ہے؛ پس وہ (ایسی حالت میں بھی) نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے اور خیر کے کاموں کے سوا لوگوں سے الگ تھلگ رہے؛ اور فرمایا: سلع نامی پہاڑ پر سفید رنگ کی ایک سو بکریاں چرانا میرے نزدیک بنو نضیر کی بادشاہت و حکومت سے زیادہ پسندیدہ ہے، اور یہ اس وقت ہوگا جب حالات ایسے اور ایسے (فتنہ و فساد والے) ہو جائیں گے۔“
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیة الباحث) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مسعدہ بن صدقہ ضعیف راوی ہے، تاہم فتنوں کے زمانے میں دین بچانے کے لیے گوشہ نشینی کی ترغیب دیگر صحیح احادیث میں بھی وارد ہوئی ہے۔
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیة الباحث) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مسعدہ بن صدقہ ضعیف راوی ہے، تاہم فتنوں کے زمانے میں دین بچانے کے لیے گوشہ نشینی کی ترغیب دیگر صحیح احادیث میں بھی وارد ہوئی ہے۔