المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ جَوَازِ الترهب فِي أَيَّامِ الفتن باب: فتنوں کے زمانے میں عبادت کے لیے گوشہ نشینی کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 4359
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا رَوَّادٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُكُمْ فِي رَأْسِ الْمِائَتَيْنِ الْخَفِيفُ الْحَاذِ . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا خِفَّةُ الْحَاذِ ؟ قَالَ : مَنْ لَا أَهْلَ لَهُ وَلَا مَالَ .ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دو سو ہجری کے آغاز پر تم میں سب سے بہترین شخص «الْخَفِيفُ الْحَاذِ» (ہلکے بوجھ والا) ہو گا۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! «خِفَّةُ الْحَاذِ» (ہلکے بوجھ والے ہونے) سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جس کے پاس نہ تو اہل و عیال ہوں اور نہ ہی مال و دولت (کا بوجھ) ہو۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں رواد بن جراح نامی راوی موجود ہے جو کہ ضعیف الحفظ ہے۔