المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ عدد الفتن باب: فتنوں کی تعداد کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَعَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَمْسَ فِتَنٍ : فِتْنَةٌ خَاصَّةٌ ، ثُمَّ فِتْنَةٌ عَامَّةٌ ، ثُمَّ فِتْنَةٌ خَاصَّةٌ ، ثُمَّ فِتْنَةٌ عَامَّةٌ ، ثُمَّ تَجِيءُ فِتْنَةٌ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ ، فَيَصِيرُ النَّاسُ فِيهَا كَالْبَهَائِمِ ، فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ : نَعَمْ .
وَرَدَ بَيْنَ هَذَا الْقِسْمِ وَالْقِسْمِ الْآتِي فِي جَمِيعِ النُّسَخِ مَا يَأْتِي :سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اس امت میں پانچ فتنے مقدر فرمائے ہیں: (پہلے) ایک خاص فتنہ، پھر ایک عام فتنہ، پھر ایک خاص فتنہ، پھر ایک عام فتنہ، اور پھر ایک ایسا اندھیر، سیاہ اور تاریک فتنہ نمودار ہوگا جس میں لوگ (عقل و تمیز سے عاری ہو کر) چوپایوں کی مانند ہو جائیں گے۔“ امام اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسامہ سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو امام اعمش نے منذر الثوری اور عاصم بن ضمرہ کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے؟ تو انہوں نے اس کا اقرار کرتے ہوئے کہا: ”جی ہاں (یہ درست ہے)۔“
تمام نسخوں میں اس حصے اور آنے والے حصے کے درمیان یہ عبارت وارد ہوئی ہے: