المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ عَلَامَةِ أَوَّلِ الفتن باب: فتنوں کی پہلی علامت کا بیان۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا كُنْتَ فِي أَرْضٍ فَسَمِعْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِي شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ فَاخْرُجْ مِنْهَا . قَالَ : فَخَرَجَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَأَتَى الشَّامَ .یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دو آدمی سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس زمین کے محض ایک بالشت بھر ٹکڑے کے متعلق اپنا جھگڑا لے کر آئے، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے (انہیں تنبیہ کرتے ہوئے) فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم کسی زمین میں ہو اور دیکھو کہ وہاں دو آدمی زمین کے محض ایک بالشت بھر حصے کے بارے میں باہم دست و گریبان ہیں تو وہاں سے نکل جاؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ (اس فرمانِ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے) سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو گئے اور ملکِ شام تشریف لے گئے۔
اسے امام طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے، اس حدیث میں زمین کے معمولی سے حصے کے لیے ناحق جھگڑا کرنے کی مذمت اور فتنے کی جگہ سے دوری اختیار کرنے کی تاکید بیان ہوئی ہے۔