المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ أذى المشركين فِي أصنامهم باب: مشرکین کو ان کے بتوں کے معاملے میں پہنچنے والی اذیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4224
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنِي شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَائِنِيُّ ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ أَنْطَلِقُ أَنَا وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى أَصْنَامِ قُرَيْشٍ الَّتِي حَوْلَ الْكَعْبَةِ ، فَنَأْتِي الْعَذِرَاتِ ، فَنَأْخُذُ حُرَيْرَاقَ بِأَيْدِينَا ، فَنَنْطَلِقُ بِهِ إِلَى أَصْنَامِ قُرَيْشٍ فَنُلَطِّخُهَا ، فَيُصْبِحُونَ فَيَقُولُونَ : مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا ؟ فَيَنْطَلِقُونَ إِلَيْهَا وَيَغْسِلُونَهَا بِاللَّبَنِ وَالْمَاءِ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ قریش کے ان بتوں کی طرف جایا کرتے تھے جو کعبہ کے ارد گرد (نصب) تھے، پس ہم گندگی کے مقامات پر جاتے اور اپنے ہاتھوں میں پتلا پاخانہ (غلاظت) لیتے، پھر اسے لے کر قریش کے بتوں کی طرف جاتے اور انہیں اس نجاست سے لتھڑ دیتے؛ جب صبح ہوتی تو وہ (مشرکین) کہتے: ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے؟ پھر وہ ان بتوں کی طرف دوڑتے اور انہیں دودھ اور پانی سے دھو کر صاف کرتے تھے۔“
اس کی سند صحیح ہے۔