المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ أذى المشركين فِي أصنامهم باب: مشرکین کو ان کے بتوں کے معاملے میں پہنچنے والی اذیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ ، فَقَالَ لِي : ابْتَغِ لِي مَاءً ، فَأَتَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فِي دَلْوٍ ، فَجَعَلَ يَبُلُّ بِهِ الثَّوْبَ ثُمَّ يَضْرِبُ بِهِ الصُّوَرَ ، وَيَقُولُ : قَاتَلَ اللهُ أَقْوَامًا يُصَوِّرُونَ مَا لَا يَخْلُقُونَ .سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بیت اللہ (کعبہ) کے اندر داخل ہوا تو آپ ﷺ نے وہاں کچھ تصویریں دیکھیں، تب آپ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”میرے لیے پانی تلاش کر کے لاؤ“، چنانچہ میں ایک ڈول میں پانی لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ اس پانی سے کپڑا بھگو کر ان تصویروں پر مارنے (اور انہیں مٹانے) لگے اور ساتھ ساتھ یہ فرما رہے تھے: «قَاتَلَ اللهُ أَقْوَامًا يُصَوِّرُونَ مَا لَا يَخْلُقُونَ» ”اللہ تعالیٰ ایسی قوموں کو غارت کرے جو ان چیزوں کی تصویر کشی کرتے ہیں جنہیں وہ (حقیقتاً) پیدا نہیں کر سکتے۔“
[تخريج: مسند احمد: 21829، السنن الكبرى للنسائي: 6994، إسناده حسن]