کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کی اولیت اور آپ کے نسب کی شرافت کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفُرَاتِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ نُورًا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَلْفَيْ عَامٍ ، يُسَبِّحُ ذَلِكَ النُّورُ فَتُسَبِّحُ الْمَلَائِكَةُ بِتَسْبِيحِهِ ، فَلَمَّا خَلَقَ اللهُ آدَمَ جَعَلَ ذَلِكَ النُّورَ فِي صُلْبِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَهْبَطَهُ اللهُ إِلَى الْأَرْضِ فِي صُلْبِ آدَمَ ، فَجَعَلَهُ فِي صُلْبِ نُوحٍ فِي السَّفِينَةِ ، وَقُذِفَ فِي النَّارِ فِي صُلْبِ إِبْرَاهِيمَ ، وَلَمْ يَزَلْ يَنْقُلُنِي مِنْ أَصْلَابِ الْكِرَامِ إِلَى الْأَرْحَامِ ، حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْ بَيْنِ أَبَوَيَّ ، لَمْ يَلْتَقِيَا عَلَى سِفَاحٍ قَطُّ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک قریش (کا نور) حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل اللہ عزوجل کے حضور ایک نور کی صورت میں موجود تھا، وہ نور اللہ کی تسبیح بیان کرتا تھا تو فرشتے بھی اس کی تسبیح کی وجہ سے تسبیح کرتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو اس نور کو ان کی پشت میں ودیعت کر دیا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت آدم علیہ السلام کی صلب میں زمین پر اتارا، پھر اسے کشتی میں حضرت نوح علیہ السلام کی صلب میں رکھا، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صلب میں (نمرود کی) آگ میں ڈالا گیا، اور اللہ عزوجل مجھے مسلسل معزز پشتوں سے پاکیزہ رحموں کی طرف منتقل فرماتا رہا، یہاں تک کہ مجھے میرے والدین کے ذریعے (دنیا میں) ظاہر فرمایا، وہ کبھی بھی کسی بدکاری یا غیر شرعی فعل پر اکٹھے نہیں ہوئے تھے۔“
اس حدیث کی سند میں عثمان بن ضحاک نامی راوی سخت ضعیف اور متروک ہے، اسی بنا پر امام ابن جوزی اور علامہ البانی سمیت دیگر کئی محدثین نے اسے موضوع (من گھڑت) احادیث کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
اس حدیث کی سند میں عثمان بن ضحاک نامی راوی سخت ضعیف اور متروک ہے، اسی بنا پر امام ابن جوزی اور علامہ البانی سمیت دیگر کئی محدثین نے اسے موضوع (من گھڑت) احادیث کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
قَالَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَرَجْتُ مِنْ نِكَاحٍ ، وَلَمْ أَخْرُجْ مِنْ سِفَاحٍ ، مِنْ لَدُنْ آدَمَ إِلَى أَنْ وَلَدَنِي أَبِي وَأُمِّي ، فَلَمْ يُصِبْنِي مِنْ سِفَاحِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں (نکاحِ شرعی کے) پاکیزہ رشتے سے پیدا ہوا ہوں اور میں بدکاری (زنا) کے عمل سے پیدا نہیں ہوا، میرا یہ معتبر سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر میرے والدین کے ذریعے میری ولادت تک (اسی طرح پاکیزہ) جاری رہا، اور مجھے زمانہ جاہلیت کی کسی بھی بدکاری نے چھوا تک نہیں۔“
(تخریج: اسے امام طبرانی نے ’المعجم الاوسط‘ [4728] میں اور امام بیہقی نے ’دلائل النبوۃ‘ میں روایت کیا ہے، اور متعدد شواہد کی بنیاد پر یہ حدیث حسن درجے کی ہے)۔
(تخریج: اسے امام طبرانی نے ’المعجم الاوسط‘ [4728] میں اور امام بیہقی نے ’دلائل النبوۃ‘ میں روایت کیا ہے، اور متعدد شواہد کی بنیاد پر یہ حدیث حسن درجے کی ہے)۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ غَيْرَ نَسَبِي وَسَبَبِي .
وَحَدِيثُ الْمِسْوَرِ فِي مَنَاقِبِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا .
وَحَدِيثُ الْمِسْوَرِ فِي مَنَاقِبِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا .
ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر حسب و نسب اور تعلق (قیامت کے دن) منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب اور میرے تعلق کے۔“
اور اسی مفہوم کی تائید میں سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب کے بیان میں بھی منقول ہے۔
اور اسی مفہوم کی تائید میں سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب کے بیان میں بھی منقول ہے۔