المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ أولية النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وشرف أصله باب: نبی کریم ﷺ کی اولیت اور آپ کے نسب کی شرافت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4210
قَالَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَرَجْتُ مِنْ نِكَاحٍ ، وَلَمْ أَخْرُجْ مِنْ سِفَاحٍ ، مِنْ لَدُنْ آدَمَ إِلَى أَنْ وَلَدَنِي أَبِي وَأُمِّي ، فَلَمْ يُصِبْنِي مِنْ سِفَاحِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں (نکاحِ شرعی کے) پاکیزہ رشتے سے پیدا ہوا ہوں اور میں بدکاری (زنا) کے عمل سے پیدا نہیں ہوا، میرا یہ معتبر سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر میرے والدین کے ذریعے میری ولادت تک (اسی طرح پاکیزہ) جاری رہا، اور مجھے زمانہ جاہلیت کی کسی بھی بدکاری نے چھوا تک نہیں۔“
(تخریج: اسے امام طبرانی نے ’المعجم الاوسط‘ [4728] میں اور امام بیہقی نے ’دلائل النبوۃ‘ میں روایت کیا ہے، اور متعدد شواہد کی بنیاد پر یہ حدیث حسن درجے کی ہے)۔