المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ محبة عبد المطلب جده فِيهِ وبركته صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صغره باب: نبی کریم ﷺ سے آپ کے دادا عبد المطلب کی محبت اور بچپن میں آپ کی برکت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَبَّاسٍ ، عَنْ كِنْدِيرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَجَجْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهُوَ يَرْتَجِزُ :
رُدَّ إِلَيَّ رَاكِبِي مُحَمَّدًا رُدَّهْ إِلَيَّ وَاصْطَنِعْ عِنْدِي يَدًا
قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ هَاشِمٍ ، ضَلَّتْ إِبِلٌ لَهُ ، فَأَرْسَلَ فِي إِثْرِهَا ابْنًا لَهُ فِي طَلَبِهَا ، فَاحْتُبِسَ عَلَيْهِ ، وَلَمْ يُرْسِلْهُ فِي حَاجَةٍ قَطُّ إِلَّا جَاءَ بِهَا ، قَالَ : فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى جَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ بِالْإِبِلِ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، وَاللهِ لَقَدْ حَزِنْتُ عَلَيْكَ هَذِهِ الْمَرَّةَ حُزْنًا ، لَا تُفَارِقْنِي أَبَدًا .
أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : لَقَدْ جَزِعْتُ عَلَيْكَ يَا بُنَيَّ جَزَعًا لَمْ أَجْزَعْهُ عَلَى شَيْءٍ ، وَاللهِ لَا أَبْعَثُكَ فِي حَاجَةٍ أَبَدًا ، وَلَا تُفَارِقْنِي بَعْدَ هَذَا أَبَدًا .سیدنا کِنْدِیر بن سعید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نے زمانہ جاہلیت میں حج کیا، تو میں نے ایک شخص کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا جو یہ اشعار گنگنا رہا تھا: «رُدَّ إِلَيَّ رَاكِبِي مُحَمَّدًا، رُدَّهْ إِلَيَّ وَاصْطَنِعْ عِنْدِي يَدًا» ”اے میرے پروردگار! میرے سوار محمد (ﷺ) کو میرے پاس واپس لوٹا دے، اسے مجھ تک واپس پہنچا دے اور مجھ پر یہ احسان فرما دے۔“ میں نے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں، ان کے کچھ اونٹ گم ہو گئے تھے تو انہوں نے ان کی تلاش میں اپنے ایک فرزند (پوتے) کو بھیجا ہے، مگر انہیں واپس آنے میں تاخیر ہو گئی ہے؛ حالانکہ صورتحال یہ تھی کہ انہوں نے جب بھی انہیں کسی کام کے لیے بھیجا تو وہ اسے پورا کر کے ہی لوٹے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں ابھی وہیں موجود تھا کہ محمد ﷺ اونٹ لے کر تشریف لے آئے، تو عبدالمطلب نے (انہیں دیکھ کر) کہا: ”اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کی قسم! اس مرتبہ تمہاری جدائی میں میں اس قدر غمزدہ ہوا ہوں کہ ایسا غم مجھے کبھی نہیں ہوا، اب تم مجھ سے کبھی جدا نہیں ہو گے۔“
اسے امام حاکم نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ”اے میرے پیارے بیٹے! میں تمہارے لیے اس قدر بے قرار اور مضطرب ہوا کہ اتنا کبھی کسی چیز کے لیے نہیں ہوا تھا، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کبھی کسی کام کے لیے (اکیلے) نہیں بھیجوں گا اور اس کے بعد تم مجھ سے کبھی جدا نہیں ہو گے۔“