کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: اللہ تعالیٰ کے نبی کریم ﷺ کو بعثت سے پہلے محفوظ رکھنے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا هَمَمْتُ بِقَبِيحٍ مِمَّا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَهُمُّونَ بِهِ ، إِلَّا مَرَّتَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ ، كِلْتَيْهِمَا يَعْصِمُنِي اللهُ تَعَالَى مِنْهَا ، قُلْتُ لَيْلَةً لِفَتًى كَانَ مَعِي مِنْ قُرَيْشٍ بِأَعْلَى مَكَّةَ فِي أَغْنَامٍ لِأَهْلِهَا يَرْعَاهَا : أَبْصِرْ إِلَى غَنَمِي حَتَّى أَسْمُرَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِمَكَّةَ كَمَا يَسْمُرُ الْفِتْيَانُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ أَدْنَى دَارٍ مِنْ دُورِ مَكَّةَ ، سَمِعْتُ غِنَاءً وَضَرْبَ دُفُوفٍ وَمَزَامِيرَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : فُلَانٌ تَزَوَّجَ فُلَانَةَ ، لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ، فَلَهَوْتُ بِذَلِكَ الْغِنَاءِ وَبِذَلِكَ الصَّوْتِ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي ، فَمَا أَيْقَظَنِي إِلَّا مَسُّ الشَّمْسِ ، فَرَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي ، قَالَ : مَا فَعَلْتَ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ لَيْلَةً أُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَ ، فَخَرَجْتُ فَسَمِعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقِيلَ لِي مِثْلُ مَا قِيلَ لِي ، فَلَهَوْتُ بِمَا سَمِعْتُ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي ، فَمَا أَيْقَظَنِي إِلَّا مَسُّ الشَّمْسِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي ، فَقَالَ : مَا فَعَلْتَ ؟ قُلْتُ : مَا فَعَلْتُ شَيْئًا ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَوَاللهِ مَا هَمَمْتُ بَعْدَهَا بِسُوءٍ مِمَّا يَعْمَلُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ، حَتَّى أَكْرَمَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِنُبُوَّتِهِ .
قُلْتُ : هَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فِي السِّيرَةِ ، وَهَذِهِ الطَّرِيقُ حَسَنَةٌ جَلِيلَةٌ ، وَلَمْ أَرَهُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَسَانِيدِ إِلَّا فِي مُسْنَدِ إِسْحَاقَ هَذَا ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے زمانہ جاہلیت کے لوگوں کے قبیح کاموں میں سے کبھی کسی برائی کا قصد نہیں کیا، سوائے پوری زندگی میں محض دو مرتبہ کے، اور ان دونوں مرتبہ بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے محفوظ رکھا۔ ایک رات میں نے قریش کے ایک نوجوان سے، جو مکہ کے بالائی علاقے میں اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرانے میں میرے ہمراہ تھا، کہا: ذرا میری بکریوں کی بھی دیکھ بھال کرنا تاکہ میں آج کی رات مکہ میں جا کر ویسے ہی قصہ گوئی اور محفل آرائی کروں جیسے دوسرے نوجوان کرتے ہیں، اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ میں نکلا اور جب مکہ کے گھروں میں سے سب سے قریبی گھر کے پاس پہنچا تو مجھے گانے بجانے، دف کی تھاپ اور بانسریوں کی آوازیں سنائی دیں، میں نے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ قریش کے فلاں مرد کا نکاح قریش کی ہی فلاں خاتون سے ہوا ہے۔ میں اس گانے اور آوازوں کی لذت میں ایسا کھویا کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور مجھے سورج کی تمازت کے سوا کسی چیز نے بیدار نہ کیا۔ پھر میں اپنے ساتھی کے پاس واپس آیا تو اس نے پوچھا کہ تم نے کیا کیا؟ میں نے اسے سارا ماجرا سنا دیا، پھر ایک دوسری رات بھی میں نے اس سے ویسے ہی کہا اور اس نے حامی بھر لی، میں پھر نکلا اور وہی آوازیں سنیں اور مجھے ویسا ہی جواب ملا، میں پھر ان آوازوں میں مگن ہو گیا یہاں تک کہ میری آنکھ لگ گئی اور مجھے سورج کی دھوپ نے ہی جگایا، پھر میں اپنے ساتھی کے پاس لوٹ آیا، اس نے پوچھا: کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! اس کے بعد پھر کبھی میں نے جاہلیت کے برے کاموں میں سے کسی برائی کا ارادہ تک نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے مجھے اپنی نبوت کے ساتھ بزرگی عطا فرما دی۔“
میں کہتا ہوں: محمد بن اسحاق نے اسے سیرت میں اسی طرح روایت کیا ہے، اور یہ سند نہایت عمدہ اور جلیل القدر ہے، میں نے اس روایت کو اسحاق کی اس مسند کے علاوہ کسی اور مسند میں نہیں پایا، یہ حدیث حسن متصل ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4212
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فِي السِّيرَةِ ، وَهَذِهِ الطَّرِيقُ حَسَنَةٌ جَلِيلَةٌ ، وَلَمْ أَرَهُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَسَانِيدِ إِلَّا فِي مُسْنَدِ إِسْحَاقَ هَذَا ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 6272، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7714، وأخرجه مسند البزار برقم: 640»
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .
وَطَلْحَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نُهِيتُ عَنِ التَّعَرِّي ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ عَلَيْهِ النُّبُوَّةُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے (بچپن ہی میں) برہنہ ہونے اور اپنا ستر ظاہر کرنے سے روک دیا گیا تھا،“ اور یہ معاملہ آپ ﷺ پر منصبِ نبوت کی وحی نازل ہونے سے بھی قبل کا ہے۔
امام طیالسی نے اس حدیث کو عمرو بن ثابت عن سماک عن عکرمہ، نیز طلحہ نے عطاء کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4213
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»