کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: بنو ہاشم کے کسی کے لیے کھڑے نہ ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُومُ الرَّجُلُ عَنْ مَجْلِسِهِ لِأَخِيهِ ، إِلَّا بَنِي هَاشِمٍ ، فَإِنَّهُمْ لَا يَقُومُونَ لِأَحَدٍ .
ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کی تعظیم کے لیے اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہے، سوائے بنو ہاشم کے، کیونکہ وہ کسی کے لیے کھڑے نہیں ہوتے۔“
امام ابویعلیٰ نے اسے روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں جعفر بن زبیر نامی راوی متروک اور سخت ضعیف ہے جس کی بنا پر یہ روایت غیر مستند ہے۔
امام ابویعلیٰ نے اسے روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں جعفر بن زبیر نامی راوی متروک اور سخت ضعیف ہے جس کی بنا پر یہ روایت غیر مستند ہے۔
حَدَّثَنَا شَبَابُ بْنُ خَيَّاطٍ ، ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَّلُ النَّاسِ فَنَاءً قُرَيْشٌ ، وَأَوَّلُ قُرَيْشٍ فَنَاءً بَنُو هَاشِمٍ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سب سے پہلے قریش فنا ہوں گے، اور خود قریش میں سب سے پہلے (ہلاکت و فنا کا شکار ہونے والے) بنو ہاشم ہوں گے۔“
اس حدیث کو امام حاکم نے المستدرک میں روایت کر کے صحیح قرار دیا ہے اور علامہ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، نیز یہ حدیث مسند احمد اور مسند بزار میں بھی موجود ہے۔
اس حدیث کو امام حاکم نے المستدرک میں روایت کر کے صحیح قرار دیا ہے اور علامہ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، نیز یہ حدیث مسند احمد اور مسند بزار میں بھی موجود ہے۔