کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
❮
❯
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقُولَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، خُوَيْدِمُكَ أَنَسٌ .
4058 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هَارُونُ ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ بِهَذَا .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک میں اس بات کی قوی امید رکھتا ہوں کہ (بروزِ قیامت) جب میں نبی کریم ﷺ سے ملاقات کا شرف حاصل کروں گا تو عرض کروں گا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا ادنیٰ سا خادم انس حاضر ہے“۔
اسے امام طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اور امام ابو یعلیٰ نے بھی ہارون کے واسطے سے ابوداؤد طیالسی سے اسے نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4058
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن موقوف »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 3388، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4058 / 2»
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَخُو الْمُقَدَّمِيِّ ، ثَنَا جَعْفَرٌ ، ثَنَا ثَابِتٌ قَالَ : كُنْتُ إِذَا أَتَيْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُخْبَرُ بِمَكَانِي ، فَأَدْخُلُ عَلَيْهِ فَآخُذُ يَدَيْهِ فَأُقَبِّلُهُمَا ، وَأَقُولُ : بِأَبِي هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ اللَّتَيْنِ مَسَّتَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُقَبِّلُ عَيْنَيْهِ ، وَأَقُولُ : بِأَبِي هَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ
تابعی ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب بھی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو انہیں میری آمد کی اطلاع دی جاتی، چنانچہ میں ان کے پاس اندر چلا جاتا، پھر ان کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر انہیں بوسہ دیتا اور کہتا: «بِأَبِي هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ اللَّتَيْنِ مَسَّتَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ”میرے والد ان دو ہاتھوں پر فدا ہوں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ (کے جسمِ اطہر) کو چھوا ہے“، نیز میں ان کی دونوں آنکھوں کو چومتا اور کہتا: «بِأَبِي هَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ”میرے والد ان دو آنکھوں پر قربان ہوں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کا دیدار کیا ہے“۔
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (4078) اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4059
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مقطوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف مقطوع »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»