المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ رافع بن خديج رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4057
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ أَصَابَهُ سَهْمٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَافِعُ ، إِنْ شِئْتَ رَفَعْتُ السَّهْمَ وَتَرَكْتُ الْقُطْبَةَ ، وَأَشْهَدُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَنَّكَ شَهِيدٌ ؟ قَالَ : فَفَعَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی غزوے میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ انہیں ایک تیر پیوست ہو گیا، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: ”اے رافع! اگر تم چاہو تو میں تیر (کی لکڑی) نکال دوں اور اس کا پھل (لوہے کی نوک) تمہارے بدن میں ہی رہنے دوں، اور میں قیامت کے دن تمہارے حق میں گواہی دوں گا کہ تم شہید ہو۔“ رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے ویسا ہی کیا۔
اس کی تخریج امام طیالسی نے کی ہے، روایت کی سند میں یحییٰ بن عبدالحمید کی دادی کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعف ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس کی اصل موجود ہے۔