المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ سفينة رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سَفِينَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : رَكِبْتُ الْبَحْرَ فِي سَفِينَةٍ فَكُسِرَتْ بِنَا ، فَرَكِبْتُ لَوْحًا مِنْهَا ، فَطَرَحَنِي فِي أَجَمَةٍ فِيهَا الْأَسَدُ ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا بِهِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا الْحَارِثِ ، أَنَا سَفِينَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ ، قَالَ : فَضَرَبَنِي بِمَنْكِبِهِ وَطَأْطَأَ رَأْسَهُ ، وَجَعَلَ يَغْمِزُنِي بِمَنْكِبِهِ ، ثُمَّ مَشَى مَعِي حَتَّى أَقَامَنِي عَلَى الطَّرِيقِ ، ثُمَّ ضَرَبَنِي بِيَدِهِ وَهَمْهَمَ سَاعَةً ، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ يُوَدِّعُنِي .
4060 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، بِهِ .سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں سمندر میں ایک بحری جہاز پر سوار تھا کہ وہ ٹوٹ گیا، چنانچہ میں اس کے ایک تختے پر سوار ہو گیا جس نے مجھے لہروں کے دوش پر لے جا کر ایک ایسی جھاڑی (گھنے جنگل) میں پھینک دیا جہاں ایک شیر موجود تھا، اچانک اسے اپنے سامنے پا کر میں سخت گھبرا گیا، تو میں نے اسے مخاطب کر کے کہا: اے ابو الحارث! میں رسول اللہ ﷺ کا آزاد کردہ غلام سفینہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر شیر نے اپنے کندھے سے مجھے چھوا اور اپنا سر (عجز و نیاز سے) جھکا لیا، اور وہ اپنے کندھے سے مجھے اشارہ کرتے ہوئے راستہ دکھانے لگا، پھر وہ مسلسل میرے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ اس نے مجھے (بستی کی) شاہراہ پر لا کھڑا کیا۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ (پنجے) سے اشارہ کیا اور تھوڑی دیر تک اپنی مخصوص دبی دبی آواز (ہمہمہ) نکالی، جس سے میں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ مجھے الوداع کہہ رہا ہے۔“
مسند ابویعلی: 4060، مسند البزار: 4060، امام ابویعلی اور امام بزار نے اسے عثمان بن عمر کی سند سے روایت کیا ہے۔