المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ أنس رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَخُو الْمُقَدَّمِيِّ ، ثَنَا جَعْفَرٌ ، ثَنَا ثَابِتٌ قَالَ : كُنْتُ إِذَا أَتَيْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُخْبَرُ بِمَكَانِي ، فَأَدْخُلُ عَلَيْهِ فَآخُذُ يَدَيْهِ فَأُقَبِّلُهُمَا ، وَأَقُولُ : بِأَبِي هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ اللَّتَيْنِ مَسَّتَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُقَبِّلُ عَيْنَيْهِ ، وَأَقُولُ : بِأَبِي هَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .تابعی ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب بھی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو انہیں میری آمد کی اطلاع دی جاتی، چنانچہ میں ان کے پاس اندر چلا جاتا، پھر ان کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر انہیں بوسہ دیتا اور کہتا: «بِأَبِي هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ اللَّتَيْنِ مَسَّتَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ”میرے والد ان دو ہاتھوں پر فدا ہوں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ (کے جسمِ اطہر) کو چھوا ہے“، نیز میں ان کی دونوں آنکھوں کو چومتا اور کہتا: «بِأَبِي هَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ”میرے والد ان دو آنکھوں پر قربان ہوں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کا دیدار کیا ہے“۔
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (4078) اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔