کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، ثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ الْعُرَيْجِيِّ ، قَالَ : لَمَّا حُضِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا وَجَعَلَ يَبْكِي ، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ : لِمَ تَجْزَعْ ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعْمِلُكَ وَيُدْنِيكَ ؟ فَقَالَ : قَدْ كَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، وَلَا أَدْرِي أَحُبًّا ذَلِكَ لِي أَمْ تَأَلُّفًا يَتَأَلَّفُنِي ، وَلَكِنْ أَشْهَدُ عَلَى رَجُلَيْنِ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا : ابْنُ سُمَيَّةَ ، يَعْنِي عَمَّارًا ، وَابْنُ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَلَمَّا جَدَّ بِهِ - يَعْنِي النَّزْعَ - جَمَعَ يَدَيْهِ وَوَضَعَهَا مَوْضِعَ الْغُلِّ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَمَرْتَنَا فَتَرَكْنَا ، وَنَهَيْتَنَا فَرَكِبْنَا ، فَلَا يَسَعُنَا إِلَّا رَحْمَتُكَ . قَالَ : فَمَا زَالَتْ تِلْكَ هِجِّيرَاهُ حَتَّى قُبِضَ .
ترجمہ
ابو نوفل العریجی سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ سخت بے قراری اور اضطراب کا اظہار کرنے لگے اور زار و قطار رونے لگے، اس پر ان کے صاحبزادے نے ان سے عرض کیا: ”آپ کیوں اس قدر بے چین ہو رہے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ آپ کو مختلف ذمہ داریاں سونپ کر عامل بناتے اور آپ کو اپنا مقرب بناتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”بے شک آپ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ آپ ﷺ کا یہ طرزِ عمل میرے لیے دلی محبت کی بنا پر تھا یا محض میری تالیفِ قلب یعنی دلجوئی کے لیے آپ ﷺ ایسا فرماتے تھے؟ البتہ میں دو شخصیات کے بارے میں حلفاً گواہی دیتا ہوں کہ جب رسول اللہ ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ ﷺ ان سے دلی محبت فرماتے تھے: ایک ابنِ سمیہ یعنی سیدنا عمار اور دوسرے سیدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما۔“ پھر جب ان پر جاں کنی کی سختی بڑھی اور نزع کا عالم طاری ہوا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کیے اور انہیں اپنی گردن کے اس مقام پر رکھا جہاں طوق پہنایا جاتا ہے، پھر وہ عاجزی سے یہ التجا کرنے لگے: «اللَّهُمَّ أَمَرْتَنَا فَتَرَكْنَا ، وَنَهَيْتَنَا فَرَكِبْنَا ، فَلَا يَسَعُنَا إِلَّا رَحْمَتُكَ» ”اے اللہ! تو نے ہمیں (نیکیوں کے) حکم دیے تو ہم نے (تعمیل میں) کوتاہی کی، اور تو نے ہمیں (جن برائیوں سے) روکا تھا ہم ان کا ارتکاب کر بیٹھے، اب تیری وسیع رحمت کے سوا کوئی چیز ہمارے لیے کفایت کرنے والی نہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ مسلسل یہی کلمات اپنی زبان سے دہراتے رہے یہاں تک کہ ان کی روح قبض کر لی گئی۔
امام احمد بن منیع نے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند قوی ہے اور راوی ثقہ ہیں۔
امام احمد بن منیع نے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند قوی ہے اور راوی ثقہ ہیں۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا جِسْرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، ثَنَا سَلِيطُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَايَعَ جَدُّ أَبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ
سیدنا سلیط بن عبد اللہ بن یسار انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ”میرے والد کے دادا نے اللہ کے رسول ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی تھی۔“
اسے امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی جسر بن فرقد کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے۔
اسے امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی جسر بن فرقد کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے۔