❮
❯
حدیث نمبر: 4050
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : جَاءَ الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - فَجَلَسَ وَلَمْ يُسَلِّمْ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : لَوْ سَلَّمَ هَذَا عَلَيْنَا لَرَدَدْنَا عَلَيْهِ . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَعْرِفُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، هَذَا مِنَ الثَّمَانِينَ الَّذِي صَبَرُوا مَعَكَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، أَرْزَاقُهُمْ وَأَرْزَاقُ أَوْلَادِهِمْ عَلَى اللهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْجَنَّةِ .
كَذَا قَالَ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
- [
4050 \ 2 - وَخَالَفَهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، فَقَالَ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ : إِنَّ حَارِثَةَ بْنَ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - .. فَذَكَرَهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، فَخَالَفَ فِي إِسْنَادِهِ ، فَقَالَ : عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - .. فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
وَخَالَفَ الْمَتْنَ ، فَقَالَ : يَفِرُّ النَّاسُ عَنْكَ غَيْرَ ثَمَانِينَ فَيَصْبِرُونَ مَعَكَ ، وَهُوَ مِنْهُمْ ، فَالْأَوَّلُ جَعَلَهُ خَبَرًا عَمَّا مَضَى ، وَالثَّانِي جَعَلَهُ خَبَرًا عَمَّا يَأْتِي ، وَاللهُ أَعْلَمُ .
ترجمہ

قاسم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے سرگوشی (خفیہ گفتگو) فرما رہے تھے۔ وہ (وہیں) تشریف فرما ہو گئے لیکن سلام نہیں کیا، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: "اگر یہ ہمیں سلام کرتے تو ہم ضرور ان کے سلام کا جواب دیتے"۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: "کیا تم انہیں پہچانتے ہو؟" انہوں نے عرض کیا: "جی ہاں، یہ ان اسی (80) خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے حنین کے دن (آزمائش کی گھڑی میں) آپ ﷺ کے ساتھ ثابت قدمی دکھائی اور صبر کیا، ان کا اور ان کی اولاد کا رزق اللہ عزوجل کے ذمہ کرم پر جنت میں ہے"۔
حسن بن قتیبہ نے اس روایت کو اسی طرح بیان کیا ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔
بشر بن مفضل نے ان کی مخالفت کی ہے اور انہوں نے مسعودی سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہوئے حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے۔
اسے امام طبرانی نے ابن ابی لیلیٰ کے واسطے سے حکم سے روایت کیا ہے، جنہوں نے اس کی سند میں اختلاف کرتے ہوئے اسے مقسم کے طریق سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ہے۔
انہوں نے متن میں بھی اختلاف کیا ہے اور اس کے الفاظ یوں نقل کیے ہیں: "لوگ آپ ﷺ کو (میدانِ جنگ میں) تنہا چھوڑ کر ہٹ جائیں گے سوائے اسی (80) افراد کے جو آپ ﷺ کے ساتھ ڈٹے رہیں گے اور یہ بھی ان میں شامل ہوں گے"۔ چنانچہ پہلی روایت میں اس واقعے کو ماضی کی خبر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ دوسری روایت میں اسے مستقبل میں ہونے والے واقعے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4050
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: كَذَا قَالَ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، فَخَالَفَ فِي إِسْنَادِهِ ، فَقَالَ : عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»