کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَّ ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - وَهُوَ يَلْعَبُ بِشَيْءٍ يَبِيعُهُ وَهُوَ غُلَامٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ .
4044 \ 2 - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ فِطْرٍ مِثْلَهُ .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ عَلَى شَرْطِ أَبِي دَاوُدَ .
أَخْرَجَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَوَّلَ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا أَوْرَدْتُهُ .
4044 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ فِطْرٍ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : بَارَكَ اللهُ تَعَالَى لَهُ فِي بَيْعِهِ أَوْ قَالَ : فِي صَفْقَتِهِ .
4044 \ 2 - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ فِطْرٍ مِثْلَهُ .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ عَلَى شَرْطِ أَبِي دَاوُدَ .
أَخْرَجَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَوَّلَ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا أَوْرَدْتُهُ .
4044 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ فِطْرٍ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : بَارَكَ اللهُ تَعَالَى لَهُ فِي بَيْعِهِ أَوْ قَالَ : فِي صَفْقَتِهِ .
ترجمہ
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا گزر سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے پاس سے ہوا، اس وقت وہ نوعمر لڑکے تھے اور کسی ایسی چیز کے ساتھ کھیل رہے تھے جسے وہ (بطورِ تجارت) فروخت کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ» ”اے اللہ! اس کی تجارت میں برکت عطا فرما“۔
ابن نمیر نے فطر سے اسی کی مانند روایت بیان کی ہے۔
اس کی سند امام ابوداؤد کی شرط پر حسن ہے۔
اسی سند کے ساتھ اس حدیث کا ابتدائی حصہ تو روایت کیا گیا ہے لیکن اس میں وہ الفاظ مذکور نہیں جو میں نے یہاں نقل کیے ہیں۔
امام ابو یعلیٰ نے ابوسعید، انہوں نے عبداللہ بن داؤد اور انہوں نے فطر کے واسطے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے جس میں یہ متبادل الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی بیع میں برکت فرمائے، یا یہ فرمایا کہ ”ان کے سودے (لین دین) میں برکت عطا فرمائے“۔
ابن نمیر نے فطر سے اسی کی مانند روایت بیان کی ہے۔
اس کی سند امام ابوداؤد کی شرط پر حسن ہے۔
اسی سند کے ساتھ اس حدیث کا ابتدائی حصہ تو روایت کیا گیا ہے لیکن اس میں وہ الفاظ مذکور نہیں جو میں نے یہاں نقل کیے ہیں۔
امام ابو یعلیٰ نے ابوسعید، انہوں نے عبداللہ بن داؤد اور انہوں نے فطر کے واسطے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے جس میں یہ متبادل الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی بیع میں برکت فرمائے، یا یہ فرمایا کہ ”ان کے سودے (لین دین) میں برکت عطا فرمائے“۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا جَلَبَ سُكَّرًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَسَدَ عَلَيْهِ ، فَقَالُوا لَهُ : ائْتِ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَأَتَاهُ فَاشْتَرَاهُ مِنْهُ : بِدَهْ وَازْدَهْ ، وَقَالَ : مَنْ شَاءَ أَخَذَ . فَقَالَ الرَّجُلُ : آخُذُ مَعَهُمْ ؟ قَالَ : خُذْ .
ترجمہ
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مدینہ منورہ میں شکر (تجارت کی غرض سے) لایا، مگر اس کا بازار سرد پڑ گیا (یعنی مانگ نہ ہونے کی وجہ سے مال فروخت نہ ہو سکا)، تو لوگوں نے اسے مشورہ دیا کہ: ”تم سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے پاس چلے جاؤ۔“ چنانچہ وہ ان کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے وہ سارا مال اس سے ”دہ و ازدہ“ (یعنی دس کے بدلے گیارہ کے حساب سے نہایت نفع بخش اور فراخ دلانہ قیمت پر) خرید لیا، اور پھر (عام لوگوں سے) فرمایا: ”جو شخص چاہے وہ (اس میں سے بلا قیمت) لے لے۔“ تو اس (فروخت کرنے والے) شخص نے (تعجب سے) پوچھا: ”کیا میں بھی ان لوگوں کے ساتھ (کچھ) لے سکتا ہوں؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، تم بھی لے لو۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور یہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی اس جود و سخا کا نمونہ ہے جس کی وجہ سے انہیں جود و کرم میں ضرب المثل قرار دیا جاتا تھا۔
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور یہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی اس جود و سخا کا نمونہ ہے جس کی وجہ سے انہیں جود و کرم میں ضرب المثل قرار دیا جاتا تھا۔