المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ أبي الدحداح رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو الدحداح رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا .. الْآيَةَ ، قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ . قَالَ : أَرِنِي يَدَكَ ، فَنَاوَلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، قَالَ : قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطِي ، وَحَائِطُهُ فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ ، فَجَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَمْشِي حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ ، وَأُمُّ الدَّحْدَاحِ فِيهِ وَعِيَالُهَا ، فَنَادَى : يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ ، قَالَتْ : لَبَّيْكَ . قَالَ : اخْرُجِي ، فَقَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي .
حُمَيْدٌ ضَعِيفٌ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا﴾ [سورة البقرة: 245] نازل ہوئی، تو سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ واقعی ہم سے قرض کا طالب ہے؟“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، اے ابودحداح!“ انہوں نے عرض کیا: ”آپ اپنا دستِ مبارک مجھے تھمائیے“، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنا دستِ مبارک ان کی طرف بڑھایا، تو انہوں نے عرض کیا: ”بیشک میں نے اپنا باغ اپنے رب کو بطورِ قرض دے دیا ہے“، اور ان کا وہ باغ چھ سو کھجور کے درختوں پر مشتمل تھا۔ پھر وہ رضی اللہ عنہ وہاں سے چل دیے یہاں تک کہ اپنے باغ پہنچے جہاں سیدہ ام دحداح رضی اللہ عنہا اپنے بچوں سمیت موجود تھیں، انہوں نے آواز دی: ”اے ام دحداح!“ انہوں نے جواب دیا: ”میں حاضر ہوں“، تو انہوں نے کہا: ”اس باغ سے باہر نکل آؤ کیونکہ میں نے اسے اپنے رب کو قرض دے دیا ہے۔“
حمید نامی راوی ضعیف ہے۔