المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ عبد اللَّهُ بن جعفر بن أبي طالب رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدنا عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا جَلَبَ سُكَّرًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَسَدَ عَلَيْهِ ، فَقَالُوا لَهُ : ائْتِ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَأَتَاهُ فَاشْتَرَاهُ مِنْهُ : بِدَهْ وَازْدَهْ ، وَقَالَ : مَنْ شَاءَ أَخَذَ . فَقَالَ الرَّجُلُ : آخُذُ مَعَهُمْ ؟ قَالَ : خُذْ .امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مدینہ منورہ میں شکر (تجارت کی غرض سے) لایا، مگر اس کا بازار سرد پڑ گیا (یعنی مانگ نہ ہونے کی وجہ سے مال فروخت نہ ہو سکا)، تو لوگوں نے اسے مشورہ دیا کہ: ”تم سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے پاس چلے جاؤ۔“ چنانچہ وہ ان کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے وہ سارا مال اس سے ”دہ و ازدہ“ (یعنی دس کے بدلے گیارہ کے حساب سے نہایت نفع بخش اور فراخ دلانہ قیمت پر) خرید لیا، اور پھر (عام لوگوں سے) فرمایا: ”جو شخص چاہے وہ (اس میں سے بلا قیمت) لے لے۔“ تو اس (فروخت کرنے والے) شخص نے (تعجب سے) پوچھا: ”کیا میں بھی ان لوگوں کے ساتھ (کچھ) لے سکتا ہوں؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، تم بھی لے لو۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور یہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی اس جود و سخا کا نمونہ ہے جس کی وجہ سے انہیں جود و کرم میں ضرب المثل قرار دیا جاتا تھا۔