المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ عبد اللَّهُ بن قيس الأنصاري رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد اللہ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا سَالِمُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : إِنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ وَفِي قَلْبِهِ مِنَ الْكِبْرِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ إِلَّا جَعَلَهُ اللهُ تَعَالَى فِي النَّارِ .
فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَكَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ ، لِمَ تَبْكِي ؟ فَقَالَ : مِنْ كَلِمَتِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرْ ، فَإِنَّكَ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ : فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَغَزَا ، فَقُتِلَ فِيهِمْ شَهِيدًا .. الْحَدِيثَ .
وَقَدْ تَقَدَّمَ بَاقِيهِ فِي الْأَدَبِ فِي ذَمِّ الْكِبْرِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”روئے زمین پر کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو اس حالت میں فوت ہو کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر موجود ہو مگر اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔“ جب سیدنا عبداللہ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ وعید سنی تو وہ زار و قطار رونے لگے، اس پر نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! تم کیوں رو رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”آپ ﷺ کے اس فرمان کے ڈر سے۔“ تو نبی کریم ﷺ نے (تسلی دیتے ہوئے) فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، بے شک تم جنتی ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا جس میں انہوں نے شرکت کی اور اس غزوے میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
اس حدیث کا بقیہ حصہ کتاب الادب میں تکبر کی مذمت کے بیان میں پہلے گزر چکا ہے۔