کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کے علم کی وسعت کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، ثَنَا فِطْرٌ - هُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ - ، عَنْ أَبِي يَعْلَى هُوَ مُنْذِرٌ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : لَقَدْ تَرَكَنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا تَقَلَّبَ طَيْرٌ بِجَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا ذَكَّرَنَا مِنْهُ عِلْمًا .
رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ ، وَاخْتُلِفَ عَلَى فِطْرٍ .
3846 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ... بِهَذَا .
رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ ، وَاخْتُلِفَ عَلَى فِطْرٍ .
3846 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ... بِهَذَا .
ترجمہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس حال میں چھوڑا کہ آسمان کی وسعتوں میں اپنے پروں کے بل اڑنے والا کوئی پرندہ بھی ایسا نہ تھا جس کے متعلق آپ ﷺ نے ہمیں کوئی نہ کوئی علمی رہنمائی اور سبق نہ دیا ہو۔“
اس کے راوی ثقہ ہیں، تاہم یہ روایت سنداً منقطع ہے اور اس کے راوی فطر بن خلیفہ کے حوالے سے اس کی سند میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ نیز امام ابو یعلیٰ نے اسے دوسری سند میں عطا کے واسطے سے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اس کے راوی ثقہ ہیں، تاہم یہ روایت سنداً منقطع ہے اور اس کے راوی فطر بن خلیفہ کے حوالے سے اس کی سند میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ نیز امام ابو یعلیٰ نے اسے دوسری سند میں عطا کے واسطے سے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْهَرَوِيُّ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ابْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْكَلَامِ ، وَخَوَاتِيمَهُ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، عَلِّمْنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَعَلَّمَنَا .
ترجمہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کلام کے آغاز کی کنجیاں اور اس کے اختتامی کلمات (یعنی کلام کی جامعیت اور فصاحت و بلاغت) عطا کی گئی ہیں۔“ ہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ عزوجل نے آپ کو جو علم سکھایا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کچھ تعلیم دیجیے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے ہمیں (دین کی اہم باتیں) سکھائیں۔
اس حدیث کی سند میں عبدالرحمن بن اسحاق الکوفی ضعیف راوی ہے، البتہ نبی کریم ﷺ کو جوامع الکلم عطا کیے جانے کا ذکر صحیح بخاری و مسلم کی مستند احادیث میں موجود ہے۔
اس حدیث کی سند میں عبدالرحمن بن اسحاق الکوفی ضعیف راوی ہے، البتہ نبی کریم ﷺ کو جوامع الکلم عطا کیے جانے کا ذکر صحیح بخاری و مسلم کی مستند احادیث میں موجود ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَذَكَرَ حِكَايَةً طَوِيلَةً فِيهَا - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِيمَهُ ، وَاخْتُصِرَ لِيَ الْكَلَامُ اخْتِصَارًا .
ترجمہ
سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، پھر انہوں نے ایک طویل واقعہ بیان کیا جس کے ضمن میں (مذکور ہے کہ) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً مجھے جوامع الکلم (یعنی وہ کلام جو الفاظ میں مختصر مگر معانی و مطالب میں نہایت وسیع ہو) اور کلام کے تمام گوشے و کمالات عطا کیے گئے ہیں، اور میرے لیے گفتگو کو نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ سمیٹ کر مختصر کر دیا گیا ہے۔“
[تخريج: مسند البزار: 3848، مسند احمد: 15915، اس کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق الواسطی کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے]
[تخريج: مسند البزار: 3848، مسند احمد: 15915، اس کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق الواسطی کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے]