المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ سعة علم النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے علم کی وسعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3847
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْهَرَوِيُّ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ابْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْكَلَامِ ، وَخَوَاتِيمَهُ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، عَلِّمْنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَعَلَّمَنَا .ترجمہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کلام کے آغاز کی کنجیاں اور اس کے اختتامی کلمات (یعنی کلام کی جامعیت اور فصاحت و بلاغت) عطا کی گئی ہیں۔“ ہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ عزوجل نے آپ کو جو علم سکھایا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کچھ تعلیم دیجیے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے ہمیں (دین کی اہم باتیں) سکھائیں۔
اس حدیث کی سند میں عبدالرحمن بن اسحاق الکوفی ضعیف راوی ہے، البتہ نبی کریم ﷺ کو جوامع الکلم عطا کیے جانے کا ذکر صحیح بخاری و مسلم کی مستند احادیث میں موجود ہے۔