المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ سعة علم النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے علم کی وسعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3848
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَذَكَرَ حِكَايَةً طَوِيلَةً فِيهَا - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِيمَهُ ، وَاخْتُصِرَ لِيَ الْكَلَامُ اخْتِصَارًا .ترجمہ
سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، پھر انہوں نے ایک طویل واقعہ بیان کیا جس کے ضمن میں (مذکور ہے کہ) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً مجھے جوامع الکلم (یعنی وہ کلام جو الفاظ میں مختصر مگر معانی و مطالب میں نہایت وسیع ہو) اور کلام کے تمام گوشے و کمالات عطا کیے گئے ہیں، اور میرے لیے گفتگو کو نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ سمیٹ کر مختصر کر دیا گیا ہے۔“
[تخريج: مسند البزار: 3848، مسند احمد: 15915، اس کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق الواسطی کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے]