کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کی سخاوت و کرم کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، وَإِسْحَاقُ ، قَالَا : ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ... فَذَكَرَ حَدِيثَ الْبَعِيرِ ، قَالَ جَابِرٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي كَانَ ، فَجَعَلَ يَتَعَجَّبُ ، وَيَقُولُ : أَعْطَاكَ الثَّمَنَ ، وَرَدَّ عَلَيْكَ الْبَعِيرَ .
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے (اونٹ والے مشہور واقعے کے متعلق) روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: ”پھر میری ملاقات یہودیوں کے ایک شخص سے ہوئی، تو میں نے اسے وہ سارا معاملہ بتایا جو (نبی کریم ﷺ کے ساتھ) پیش آیا تھا، جس پر وہ کمالِ حیرت سے کہنے لگا: انہوں نے تمہیں (اونٹ کی) قیمت بھی عطا فرما دی اور تمہارا اونٹ بھی تمہیں واپس لوٹا دیا!“
اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اسے امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جبکہ اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اسے امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جبکہ اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبَّادَانِيُّ ، ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَخِيهِ أَيُّوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الْأَجْوَدِ ؟ اللهُ الْأَجْوَدُ ، وَأَنَا أَجْوَدُ وَلَدِ آدَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس ہستی کے بارے میں خبر نہ دوں جو سب سے زیادہ جود و عطا کرنے والی ہے؟ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر جود و سخا فرمانے والا ہے، اور میں تمام اولادِ آدم میں سب سے زیادہ سخی ہوں۔“
اس روایت کی سند میں سوید بن عبد العزیز اور نوح بن ذکوان ضعیف راوی ہیں، جس کی وجہ سے یہ حدیث سندی اعتبار سے ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند میں سوید بن عبد العزیز اور نوح بن ذکوان ضعیف راوی ہیں، جس کی وجہ سے یہ حدیث سندی اعتبار سے ضعیف ہے۔