المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النَّبَإِ باب: سورۂ نبأ۔
حدیث نمبر: 3775
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : لابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا
قَالَ : الْحُقْبُ أَلْفُ شَهْرٍ ، وَالشَّهْرُ ثَلَاثُونَ يَوْمًا ، وَالسَّنَةُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ يَوْمًا ، وَالْيَوْمُ أَلْفُ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، وَالْحِقَبُ ثَلَاثُونَ أَلْفَ أَلْفِ سَنَةٍ .ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ عزوجل کے اس ارشاد ﴿لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا﴾ [سورة النبأ: 23] کی تشریح میں فرمایا: ”«الْحُقْبُ» ”ایک حقب“ ایک ہزار مہینوں کا ہوتا ہے، ایک مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے، ایک سال تین سو ساٹھ دنوں کا ہوتا ہے، اور (اس جہان کا ایک) دن تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہے، جبکہ «الْحِقَبُ» ”احقاب“ (کی مجموعی مدت) تین کروڑ سال بنتی ہے۔“
اس حدیث کی سند میں جعفر بن زبیر راوی متروک اور سخت ضعیف ہے۔