قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ بَجَالَةَ التَّمِيمِيِّ ، قَالَ : وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مُصْحَفًا فِي حِجْرِ غُلَامٍ لَهُ ، فِيهِ : ( النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ) ، فَقَالَ : احْكُكْهَا يَا غُلَامُ ، فَقَالَ : لَا أَحُكُّهَا ، وَهِيَ فِي مُصْحَفِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَانْطَلَقَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : شَغَلَنِي الْقُرْآنُ ، وَشَغَلَكَ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ إِذْ تَعْرِضُ رَحَاكَ عَلَى عُنُقِكَ بِبَابِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ .
ترجمہ
بجالہ تمیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کی گود میں قرآن مجید کا ایک نسخہ (مصحف) دیکھا جس میں یہ مرقوم تھا: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] ”نبی مومنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق و اختیار رکھتے ہیں اور وہ ان کے باپ ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (اس میں موجود اضافی کلمات دیکھ کر) فرمایا: ”اے لڑکے! اسے مٹا دو۔“ اس نے جواب دیا: ”میں اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا کیونکہ یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف میں بھی اسی طرح درج ہے۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (اس کی تصدیق کے لیے) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے (برجستہ) جواب دیا: ”مجھے قرآن کریم کے حفظ و درس نے مشغول رکھا جبکہ تمہیں بازاروں میں لین دین اور تجارت نے مصروف کر رکھا تھا، جب تم ابن عجماء کے دروازے پر اپنی گردن پر اپنی چکی (کا بوجھ) لادے پھرتے تھے۔“
یہ اسناد امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ اسناد امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ الدَّوْرَقِيُّ ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلامٌ - قَالَ : يَوْمَ يَلْقَوْنَ مَلَكَ الْمَوْتِ ، لَيْسَ مِنْ مُؤْمِنٍ يَقْبِضُ رُوحَهُ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ .
( 155 ) حَدِيثُ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي نُزُولِ قَوْلِهِ تَعَالَى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ - يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي الْمَغَازِي ، فِي غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ .
( 155 ) حَدِيثُ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي نُزُولِ قَوْلِهِ تَعَالَى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ - يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي الْمَغَازِي ، فِي غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ .
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ﴾ [سورة الأحزاب: 44] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اس سے مراد وہ دن ہے جب وہ ملک الموت (موت کے فرشتے) سے ملاقات کریں گے، کیونکہ کوئی بھی ایسا مومن نہیں ہے جس کی روح قبض کی جائے مگر وہ فرشتہ اسے سلام پیش کرتا ہے۔“
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث جو اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ﴾ [سورة الأحزاب: 9] کے نزول کے متعلق ہے، وہ ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب المغازی میں غزوہ خندق کے باب میں آئے گی۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث جو اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ﴾ [سورة الأحزاب: 9] کے نزول کے متعلق ہے، وہ ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب المغازی میں غزوہ خندق کے باب میں آئے گی۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا - قَالَ : صَعِدَ مُوسَى وَهَارُونُ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي : لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَخْبَارِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ .
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَخْبَارِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا﴾ [سورة الأحزاب: 69] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: ”سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون علیہما الصلاۃ والسلام (پہاڑ پر) چڑھے...“ پھر انہوں نے اس آیت ﴿لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ﴾ کے ضمن میں مکمل حدیث ذکر کی۔
اور یہ روایت پہلے ’انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصص و اخبار‘ کے بیان میں گزر چکی ہے۔
اور یہ روایت پہلے ’انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصص و اخبار‘ کے بیان میں گزر چکی ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ ، كُلَّمَا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ - أَوْ قَالَ : "صَلَاةِ الْفَجْرِ" - مَرَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، فَيَقُولُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ : إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا .
3686 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : رَابَطْتُ بِالْمَدِينَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ جَاءَ إِلَى بَابِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا .
أَبُو دَاوُدَ هُوَ : نَافِعٌ ، فِي الَّذِي قَبْلَهُ .
أَبُو دَاوُدَ هُوَ نَافِعٌ ، وَقِيلَ : نُفَيْعٌ الْأَعْمَى ، كَذَّبَهُ قَتَادَةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا .
3687 - وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِمَعْنَاهُ .
3686 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : رَابَطْتُ بِالْمَدِينَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ جَاءَ إِلَى بَابِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا .
أَبُو دَاوُدَ هُوَ : نَافِعٌ ، فِي الَّذِي قَبْلَهُ .
أَبُو دَاوُدَ هُوَ نَافِعٌ ، وَقِيلَ : نُفَيْعٌ الْأَعْمَى ، كَذَّبَهُ قَتَادَةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا .
3687 - وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِمَعْنَاهُ .
ترجمہ
سیدنا ابوالحمراء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ آٹھ ماہ تک موجود رہا، آپ ﷺ جب بھی نماز کے لیے - یا انہوں نے کہا کہ ”فجر کی نماز“ کے لیے - باہر تشریف لاتے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس سے گزرتے ہوئے فرماتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ» ”اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو“ اور پھر یہ آیت تلاوت فرماتے: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو! تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح پاک صاف کر دے“۔ سیدنا ابوالحمراء رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں سات ماہ تک مدینہ منورہ میں قیام کیا، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر طلوع ہوتی تو سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے دروازے پر تشریف لاتے اور پکارتے: «الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ» ”نماز کی طرف آؤ، نماز کا وقت ہے“ پھر آپ ﷺ تلاوت فرماتے: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33]۔
یہاں مذکور راوی ابو داؤد سے مراد نافع ہی ہے جو پچھلی سند میں گزرا، اور بعض نے کہا کہ اس کا نام نفیع الاعمیٰ ہے، امام قتادہ نے اسے کذاب (جھوٹا) قرار دیا ہے اور وہ سخت ضعیف راوی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کو علی بن زید کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی انہی معنوں میں تخریج کیا ہے۔
یہاں مذکور راوی ابو داؤد سے مراد نافع ہی ہے جو پچھلی سند میں گزرا، اور بعض نے کہا کہ اس کا نام نفیع الاعمیٰ ہے، امام قتادہ نے اسے کذاب (جھوٹا) قرار دیا ہے اور وہ سخت ضعیف راوی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کو علی بن زید کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی انہی معنوں میں تخریج کیا ہے۔
وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ الله عَنْه بِمَعْنَاهُ.
ترجمہ
اور اسے امام احمد رحمہ اللہ نے علی بن زید کے طریق سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے۔