المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَحْزَابِ باب: سورۃ الاحزاب۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ ، كُلَّمَا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ - أَوْ قَالَ : "صَلَاةِ الْفَجْرِ" - مَرَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، فَيَقُولُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ : إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا .
3686 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : رَابَطْتُ بِالْمَدِينَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ جَاءَ إِلَى بَابِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا .
أَبُو دَاوُدَ هُوَ : نَافِعٌ ، فِي الَّذِي قَبْلَهُ .
أَبُو دَاوُدَ هُوَ نَافِعٌ ، وَقِيلَ : نُفَيْعٌ الْأَعْمَى ، كَذَّبَهُ قَتَادَةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا .
3687 - وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِمَعْنَاهُ .سیدنا ابوالحمراء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ آٹھ ماہ تک موجود رہا، آپ ﷺ جب بھی نماز کے لیے - یا انہوں نے کہا کہ ”فجر کی نماز“ کے لیے - باہر تشریف لاتے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس سے گزرتے ہوئے فرماتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ» ”اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو“ اور پھر یہ آیت تلاوت فرماتے: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو! تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح پاک صاف کر دے“۔ سیدنا ابوالحمراء رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں سات ماہ تک مدینہ منورہ میں قیام کیا، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر طلوع ہوتی تو سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے دروازے پر تشریف لاتے اور پکارتے: «الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ» ”نماز کی طرف آؤ، نماز کا وقت ہے“ پھر آپ ﷺ تلاوت فرماتے: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33]۔
یہاں مذکور راوی ابو داؤد سے مراد نافع ہی ہے جو پچھلی سند میں گزرا، اور بعض نے کہا کہ اس کا نام نفیع الاعمیٰ ہے، امام قتادہ نے اسے کذاب (جھوٹا) قرار دیا ہے اور وہ سخت ضعیف راوی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کو علی بن زید کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی انہی معنوں میں تخریج کیا ہے۔