المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ فَاطِرٍ باب: سورہ فاطر۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو شُعَيْبٍ ، ثَنَا عُقْبَةُ بْنُ صُهْبَانَ الْهُنَائِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا - الْآيَةَ ، فَقَالَتْ لِي : يَا بُنَيَّ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ ، فَأَمَّا السَّابِقُ بِالْخَيْرَاتِ : فَمَنْ مَضَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَهِدَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَيَاةِ وَالرِّزْقِ ، وَأَمَّا الْمُقْتَصِدُ : فَمَنِ اتَّبَعَ أَثَرَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى يَلْحَقَ بِهِ ، وَأَمَّا الظَّالِمُ لِنَفْسِهِ : فَمِثْلِي وَمِثْلُكَ قَالَ : فَجَعَلَتْ نَفْسَهَا - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - مَعَنَا .عقبہ بن صہبان الہنائی سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا﴾ [سورة فاطر: 32] کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! یہ سب کے سب (تینوں گروہ) جنتی ہیں، رہے نیکیوں میں سبقت لے جانے والے (السابق بالخيرات)، تو یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں دنیا سے رخصت ہوئے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں (جنت کی) زندگی اور رزق کی گواہی دی، اور رہے میانہ روی اختیار کرنے والے (المقتصد)، تو یہ وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کے نقشِ قدم کی کامل پیروی کی یہاں تک کہ وہ آپ سے جا ملے، اور رہا اپنی جان پر ظلم کرنے والا (الظالم لنفسه)، تو وہ مجھ جیسے اور تم جیسے لوگ ہیں۔“ عقبہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (کمالِ تواضع اور انکساری سے) اپنے آپ کو ہمارے ساتھ (تیسری قسم میں) شمار کیا۔
امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں صلت بن دینار ابو شعیب نے عقبہ بن صہبان الہنائی کے واسطے سے یہ حدیث بیان کی۔